آر ٹی سی ملازمین ہڑتال کے منصوبہ سے فوری دستبردار ہوجائیں: چیف منسٹر

   

ملازمین کے فلاح و بہبود کے لیے حکومت عہد کی پابند ، وزیر ٹرانسپورٹ سے بات چیت کرنے کا مشورہ
حیدرآباد : یکم مئی ( سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی آر ٹی سی ملازمین سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال کے منصوبہ سے فوری دستبردار ہوجائیں ۔ اپوزیشن کے بچھائے ہوئے جال میں نہ پھنسنے کا ملازمین کو مشورہ دیا ۔ آج رویندرا بھارتی میں ’مئے ڈے ‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت قائم ہونے کے بعد نقصان میں چلنے والی آر ٹی سی کو نفع بخش ادارہ میں تبدیل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ساتھ ہی ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین کی فلاح و بہبود پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ راستہ بھٹکنے والی آر ٹی سی ابھی ابھی صحیح راستے پر پہنچ رہی ہے ۔ ایسے میں ملازمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ادارہ کو مستحکم اور فائدہ میں پہنچانے کیلئے حکومت کیساتھ تعاون کریں ۔ چیف منسٹر نے آر ٹی سی کے ملازمین کو مشورہ دیا کہ اگر ان کے کوئی مسائل ہیں تو وہ بات چیت کے ٹیبل پر ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر سے تبادلہ خیال کریں ۔ یہ ادارہ آپ کا ادارہ ہے ، اس کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے ۔ سابق بی آر ایس حکومت میں آر ٹی سی کو یکسر نظرانداز کردیا گیا تھا ۔ اپنے مسائل کیلئے احتجاج کرنے والے ملازمین بی آر ایس حکومت میں کوئی اہمیت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے 50 ملازمین کی قیمتی زندگیاں ضائع ہوئی ہیں لیکن کانگریس حکومت آر ٹی سی ملازمین سے بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے ۔ ہڑتال کے منصوبہ سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے ملازمین بات چیت کے ذریعہ اپنے مسائل کو حل کرانے کی کوشش کریں ۔ انہوں نے آر ٹی سی کی مزدور تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپوزیشن کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر اپنے ادارہ کو مزید نقصان نہ پہنچائیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی نے 10سال تک ریاست میں حکمرانی کی اور تلنگانہ کو 8 لاکھ کروڑ کا مقروض بنادیا ۔ کے سی آر کی جانب سے حاصل کردہ قرض اور سود کو ادا کرنے کیلئے ابھی تک 1.58لاکھ کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنا پڑا ہے ۔ لاکھوں کروڑوں روپئے خرچ کرتے ہوئے کے سی آر نے کالیشورم پراجکٹ تیار کیا ہے جو تین سال میں منہدم ہوگیا ہے ۔کانگریس پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد عوام سے کئے گئے تمام وعدوں کو آہستہ آہستہ پورا کررہی ہے ۔ ہزار روپئے میں دستیاب ہونے والی پکوان گیس کو صرف 500روپئے میں سربراہ کیا جارہا ہے ۔ 200یونٹ تک مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ اقتدار حاصل کرنے کے پہلے سال ہی 60 ہزار سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ 2014ء میں جب علحدہ ریاست تلنگانہ قائم ہوئی تھی اُس وقت ریاست کا فاضل بجٹ تھا ۔ کے سی آر نے اس فاضل بجٹ کو 8.15لاکھ کروڑ کا مقروض بنادیا ۔ ریاست کو کنگال بنانے والا کے سی آر کا خاندان خود اپنے لئے بڑے بڑے محل بنالئے ، فارم ہاؤز بنالئے ، میڈیا ہاؤسیس بنالئے لیکن تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والوں کیلئے کچھ بھی نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی سالانہ آمدنی 18ہزار کروڑ روپئے ہے مگر اخراجات 22ہزار کروڑ روپئے کے ہے ۔ کے سی آر نے جو قرض حاصل کیا ہے اس کی ادائیگی کیلئے 6ہزار کروڑ روپئے خرچ ہورہے ہیں ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر 6 ہزار کروڑ روپئے کے اخراجات ہورہے ہیں ۔ لہذا آر ٹی سی ملازمین سے اپیل کرتے ہیں کہ ہڑتال کے منصوبہ سے فوری دستبردار ہوجائیں ۔ ترقیاتی کاموں میں حکومت کا ساتھ دیں ۔ حکومت بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے معاملہ میں عہد کی پابند رہے گی۔2