خانگی بسوں کا تناسب 20 سے بڑھ کر 30 فیصد ہوجائے گا ، آمدنی کے بجائے مزید خسارہ ممکن
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : ٹی ایس آر ٹی سی میں جملہ 10,460 بسیں ہیں جن میں سے آر ٹی سی کی ملکیت والی 8,357 بسیں ہیں ۔ جب کہ 2,103 کرایہ پر حاصل کردہ بسیں ہیں یعنی جملہ بسوں میں کرایہ کی بسوں کا تناسب تقریبا 20 فیصد ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بروز منگل آر ٹی سی نے مزید 1035 کرایہ کی بسوں کو حاصل کرنے کے لیے ٹنڈرس جاری کیا ہے اور اگر یہ بسیں حاصل کی جاتی ہیں تو ادارے میں کرایہ کی بسوں کا تناسب 30 فیصد ہوجائے گا اور کرایہ کی بسوں میں مزید 10 فیصد کا اضافہ ہوتا ہے تو نقصانات میں بھی بھاری اضافہ ہوجائے گا ۔ آر ٹی سی کی ذاتی فی بس کی روزانہ کم از کم 13,121 روپئے کی آمدنی ہوتی ہے تو کرایہ کی بس کی آمدنی صرف 10,544 روپئے ہی ہورہی ہے یعنی آر ٹی سی ملکیت والی بس کے مقابلہ کرایہ کی بس کی وجہ سے روزانہ 2577 روپیوں کا نقصان ہورہا ہے اور روزانہ کرایہ کی بسوں سے جملہ 40.87 لاکھ کا تقریبا نقصان درج کیا جارہا ہے اور گذشتہ پانچ برس کے عرصہ میں کرایہ کی بسوں سے ادارے کو کم و بیش 630 کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔ یعنی صرف 20 فیصد کرایہ کی بسوں سے روزانہ آر ٹی سی کو 40 لاکھ کا نقصان ہورہا ہے اور اگر مزید 10 فیصد کرایہ کی بسوں کا اضافہ ہوتا ہے تو 60 فیصد کا نقصان ہوسکتا ہے جب کہ مزید 325 جدید الیکٹراک بسیں کرایہ کی بنیاد پر حاصل کی جانے والی ہیں ۔ حالانکہ ریاست کی علحدگی کے وقت یعنی 2014 میں آر ٹی سی میں کرایہ کی بسوں کی تعداد صرف 1,542 ہی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پانچ برس کے عرصہ میں مزید 561 بسوں کا اضافہ ہوگیا ہے جب کہ اتنی ہی مدت میں پڑوسی ریاست آندھرا پردیش آر ٹی سی میں صرف 200 کرایہ کی بسوں کا اضافہ ہوا ہے ۔ اور سال 2014-15 میں کرایہ کی بسوں کی وجہ سے روزانہ 23.12 لاکھ کا ہی نقصان ہورہا تھا اور اس میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔ 2016-17 میں روزانہ 34.70 لاکھ ، 2017-18 میں 34.80 لاکھ اور 2018-19 میں 40.87 لاکھ تک نقصان پہونچ گیا ہے اس طرح کرایہ کی بسوں میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے تو آر ٹی سی کا ڈوب جانا یقینی ہونے کا آر ٹی سی ملازمین اظہار کررہے ہیں ۔۔