آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنا خارج از بحث ، ہڑتال غیر قانونی

   

خانگیانے کا کوئی منصوبہ نہیں، حالات بتدریج معمول پر، وزیر ٹرانسپورٹ پی اجئے کمار کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/12 اکٹوبر، ( سیاست نیوز)وزیر ٹرانسپورٹ پی اجئے کمار نے آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کردیا کہ حکومت آر ٹی سی کو خانگیانے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی بلکہ اُسے نقصانات سے اُبھار کر تحفظ کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کو خانگیانے یا حکومت میں ضم کرنے کا بھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا جس کا ملازمین کی یونینیں دعویٰ کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر نے آر ٹی سی ملازمین کو سرکاری ملازمین کے مماثل مراعات کا وعدہ کیا تھا ۔ انہوں نے کبھی بھی حکومت میں ضم کرنے کی بات نہیں کہی۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور تلگودیشم دور حکومت میں آر ٹی سی کو نقصانات سے بچانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ جس وقت کے چندر شیکھر راؤ وزیر ٹرانسپورٹ تھے انھوں نے آر ٹی سی کو نقصانات سے فائدہ میں پہنچایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی قائدین اپنی زیر اقتدار ریاستوں میں کیا آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرچکے ہیں؟ ۔ پی اجئے کمار نے کہا کہ ریاست میں احتجاج کرنے والے بی جے پی قائدین کو چاہیئے کہ وہ مرکز کی جانب سے عائد کئے جارہے ٹیکسیس کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ریلوے کو خانگیانے کا فیصلہ کرچکی ہے کیا یہ بی جے پی کو دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے سبب عوام کو ہونے والی دشواریوں کی کس طرح تائید کی جاسکتی ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ آر ٹی سی یونین کے قائدین نے یکطرفہ طور پر مذاکرات سے علحدگی اختیار کرلی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی سہولت کیلئے حکومت 7358 بسوں کو چلارہی ہے جس کے لئے عارضی طور پر ملازمین کا تقرر کیا گیا۔ بہت جلد تمام آر ٹی سی بسوں کو چلانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے آر ٹی سی کی املاک کے بارے میں اپوزیشن کے دعوؤں کو مسترد کردیا اور کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد آر ٹی سی کے اثاثہ جات 4415 کروڑ تھے جسے اپوزیشن بڑھا چڑھا کر ایک لاکھ کروڑ تک پیش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال قبل حکومت نے 25 فیصد فٹمنٹ کے اعلان کا منصوبہ بنایا تھا تاہم 43 فیصد منظور کیا گیا۔ انہوں نے آر ٹی سی ہڑتال کو غیر قانونی اور عوام کیلئے مشکلات کا باعث قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کے سبب عوام کی دشواریوں میں کمی آئی ہے اور حالات دن بہ دن معمول پر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بدنام کرنے کیلئے تہوار کے موقع پر ہڑتال کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں غیر ضروری ہڑتال کو سیاسی رنگ دے رہی ہیں اور عوام اپوزیشن کے رویہ سے ناراض ہیں۔ انہوں نے بتایا کے سی آر جس وقت وزیر ٹرانسپورٹ تھے آر ٹی سی کو 14 کروڑ روپئے کا فائدہ ہوا تھا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں حکومت نے آر ٹی سی کو 3303 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی میں تمام زمرہ جات کے پاسیس قبول کئے جائیں گے اور اگر کوئی زائد کرایہ وصول کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 3 آئی اے ایس عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی لیکن آر ٹی سی یونینوں نے مذاکرات سے انکار کردیا۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ ہر ریجنل آفس کے تحت پولیس کا تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کے آغاز کے پیش نظر حکومت نے اسکول بسوں کو حاصل کرنے کا فیصلہ ترک کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اکٹوبر کی شام 6 بجے تک ڈیوٹی پر رجوع ہونے والے ملازمین کو آر ٹی سی ملازمین تصور کیا جائے گا باقی ملازمین از خود آر ٹی سی سے علحدہ ہوجائیں گے۔ حکومت میں آر ٹی سی کے انضمام کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ چیف منسٹر نے ملازمین کو جو تیقنات دیئے تھے اس کے مطابق سرکاری ملازمین سے زیادہ تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔