30 ملازمین کی زندگی ضائع، نائب صدر پردیش کانگریس ملو روی کا بیان
حیدرآباد ۔2 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر ڈاکٹر ملو روی نے آر ٹی سی ملازمین کے حق میں چیف منسٹر کے اعلانات کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ 30 ملازمین کی موت کے بعد چیف منسٹر کو ملازمین کے مسائل کا خیال آیا ہے ۔ میڈیا کے نما ئندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ملو روی نے کہا کہ سیاسی مقصد براری کیلئے ملازمین کو پرگتی بھون طلب کرتے ہوئے جو اعلانات کئے گئے وہ ہڑتال کے آغاز کے ساتھ ہی کئے جاتے تو ملازمین کی جانیں ضائع نہ ہوتی۔ حکومت کے رویہ سے دلبرداشتہ ہوکر کئی ملازمین نے خودکشی کرلی اور کئی حرکت قلب بند ہوجانے سے فوت ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو آر ٹی سی ملازمین کی زندگیوں کی کوئی پرواہ نہ یں ، لہذا انہوں نے ایسے وقت یہ اعلان کیا جبکہ ملازمین ہڑتال سے دستبردار ہوچکے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے مذاکرات کی تجویز کو حکومت نے قبول نہیں کیا اور آر ٹی سی کیلئے رقم جاری کرنے سے اتفاق کیا۔ ملو روی نے کہا کہ سالانہ 1000 کروڑکا بجٹ اور فوری طور پر 100 کروڑ کی اجرائی سے آر ٹی سی کو فائدہ ضرور ہوگا لیکن ان اعلانات کے پس پردہ سیاسی مقاصد کارفرما ہے۔ انہوں نے ہڑتال کے سبب ملازمین اور عوام کو پیش آئی دشواریوں اور خودکشی کے واقعات کیلئے چیف منسٹر کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ محض اعلانات کے ذریعہ کے سی آر ملازمین کا دل جیتنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو اور پنچایت راج محکمہ جات میں تبدیلیوں کا منصوبہ ہے۔ ملو روی نے کہا کہ چیف منسٹر کے پاس دستور اور جمہو ریت کا کوئی احترام نہیں ہے اور وہ ہر مسئلہ پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ملو روی نے ریاست میں خواتین پر مظالم میں اضافہ کو افسوسناک قرار دیا ۔