آر ٹی سی کے 65ہزار کروڑ اثاثہ جات پر کے سی آر خاندان کی نظر

   

کانگریس کے خازن نارائن ریڈی کا الزام ، ہڑتال کی آڑ میں خانگیانے کا منصوبہ
حیدرآباد۔9۔ اکتوبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے خازن جی نارائن ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر خاندان کی نظریں آر ٹی سی کی 65,000 کروڑ مالیتی اثاثہ جات پر ہے اور خانگیانے کے ذریعہ ان اثاثہ جات کو آپس میں تقسیم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ نارائن ریڈی نے ہڑتالی آر ٹی سی ملازمین سے مذاکرات سے انکار پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ پانچ دن سے ملازمین ہڑتال پر ہیں لیکن کے سی آر کو مذاکرات کی توفیق نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے واضح کردیا کہ آر ٹی سی کو نقصانات سے ابھارنے کیلئے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے اور وہ مرحلہ وار انداز میں خانگیانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ نارائن ریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آر ٹی سی کے جملہ اثاثہ جات ، قرض ، حکومت کی جانب سے وصول طلب بقایہ جات اور آر ٹی سی پر عائد کردہ ٹیکس کے بوجھ کی تفصیلات عوام میں جاری کی جا ئے ۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی پر سنیل شرما کمیٹی نے حکومت کو جو رپورٹ پیش کی ہے ، اسے منظر عام پر لایا جائے ۔ آر ٹی سی کی موجودہ صورتحال اور نقصانات کے لئے حکومت کی پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو سخت گیر فیصلوں کے بجائے آر ٹی سی ملازمین کے مسائل پر توجہ دینی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے سبب تقریباً ایک کروڑ افراد کو دشواریوں کا سامنا ہے جو روزانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ذریعہ سفر کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ تہوار کے سبب عوام کو اپنے آبائی مقامات پہنچنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ ہڑتال کی آڑ میں چیف منسٹر آر ٹی سی کو خانگیانہ کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے آمرانہ طرز حکومت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 48,000 ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل کے سی آر نے آر ٹی سی ملازمین کے لئے کئی اعلانات کئے تھے لیکن رشتہ دار ملتے ہی آر ٹی سی کو فراموش کردیا گیا۔ ملازمین نے ہڑتال کی نوٹس دی ، اس کے باوجود حکومت نے مذاکرات نہیں کئے اور اب ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے ملازمین کے مطالبات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر نے خود تیقن دیا تھا کہ آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کیا جائے گا ۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی آر ٹی سی ملازمین کے ساتھ ہے اور مسائل کی عدم یکسوئی کی صورت میں صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کرلے گی ۔