۔48 ہزار ملازمین کی روزگار سے محرومی کیلئے یونین قائدین ذمہ دار ، بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: کے سی آر
ہڑتال 10 ویں دن میں داخل، عارضی اسٹاف کی بھرتی کیلئے چیف منسٹر کا حکم
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اکتوبر (پی ٹی آئی) تلنگانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ٹی ایس آر ٹی سی) ملازمین یونینوں کی طرف سے شروع کردہ غیر معینہ مدت کی ہڑتال آج 9 ویں روز میں مزید شدت اختیار کر گئی جب آر ٹی سی کا ایک ڈرائیور جو ہڑتالی ملازمین کے مطالبات کی عدم پذیرائی پر حکومت کے رویہ کے خلاف احتجاج کے طور پر خودسوزی کی تھی اتوار کو ایک خانگی ہاسپٹل میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکا ۔ وہ کھمم ڈپو سے وابستہ سرینواس ریڈی کی موت کے ساتھ ہی ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور پیر کو کھمم بند منانے کا اعلان کیا گیا ۔ اس دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دو ٹوک انداز کہہ دیا ہے کہ ہڑتالی ملازمین کے ساتھ بات چیت یا انہیں ملازمتوں پر دوبارہ واپس لینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پولیس نے کہا کہ سرینواس ریڈی کے انتہائی قدم اٹھانے کے اسباب و وجوہات کا پتہ چلانے تحقیقات کی جارہی ہے۔ سرینواس ریڈی جو کھمم ڈپو سے وابستہ تھا ریاست گیر ہڑتال کرنے والے ایک گروپ کا حصہ تھا جس نے مایوسی کی حالت میں جسم پر پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگادی تھی جس کے نتیجہ میں شدید زخمی ہوگیا تھا ۔ کھمم کے پولیس کمشنر تفسیر اقبال نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد ضلع کی صورتحال کسی حد تک کشیدہ ہوگئی تھی لیکن فی الحال پرامن اور معمول کے مطابق ہے۔ ذرائع کے مطابق سرینواس ریڈی کی موت کی اطلاع ملتے ہی ضلع کھمم میں آر ٹی سی کے ہڑتالی ملازمین نے احتجاجی دھرنا دیا اور ٹی آر ایس حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔ بعض مقامات پر خانگی بسوں کے آئینے توڑ دیئے گئے ۔ حکومت اس صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عہدیداروں کو ہدایت کی ہے کہ بس خدمات کو بحال کیا جائے اور اگر ضروری ہو تو ملازمین کی فی الفور بھرتیاں کی جائیں۔ آر ٹی سی کے علاوہ محکمہ پولیس کے ریٹائرڈ ڈرائیوروں کی خدمات سے استفادہ کیا جائے ۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی ہڑتال کو کسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کرے گی اور ہڑتالی ملازمین کے ساتھ کسی بات چیت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک عہدیدار نے چیف منسٹر کے حوالے سے کہا کہ ’’ہڑتالی ملازمین کو خواہ کچھ بھی ملازمت پر دوبارہ ہرگز نہیں لیا جائے گا‘‘ ۔
کے سی آر کی صدارت میں ہفتہ کو ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں انہوں نے ایسے تمام ملازمین کو ستمبر کی تنخواہیں ادا کرنے کی ہدایت کی ہے جو (ملازمین ہڑتال میں حصہ نہیں لے رہے ہیں) ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہڑتالی ملازمین اپنے یونین قائدین کے بیانات پر اندھا دھند یقین کر رہے ہیں اور ان (ملازمین) کی ملازمتوں سے محرومی کیلئے یونین قائدین کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال میں سوپر وائزروں کو بھی گھسیٹا جارہا ہے ، ماضی میں ایسا کبھی نہیں کیا گیا تھا ۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ آر ٹی سی کے 48000 ملازمین کے روزگار سے محرومی کیلئے یونین لیڈرس ہی ذمہ دار ہیں، ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کو دوبارہ واپس لینے کی اب کوئی گنجائش واپس نہیں رہی۔ تلنگانہ آر ٹی سی کے 48,000 ملازمین نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر 5 اکتوبر سے غیر معائنہ مدت کی ہڑتال شروع کی تھی۔