عملی اقدام کیلئے حکمت عملی کی تیاری ۔دسہرہ کے بعد ’’ قلم رکھ دو‘‘ احتجاج پر غور
حیدرآباد ۔ 6 ؍ اکٹوبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ عوام کیلئے اہم تہوار ’دسہرہ‘ کے موقع پر تلنگانہ آر ٹی سی ملازمین کی غیر معینہ مدت کی بس ہڑتال سے جہاں ایک طرف مختلف گوشوں سے متفرق اظہار خیال کیا جا رہاہے ۔ وہیںدوسری طرف ملازمین کو تائید میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ جبکہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کو اب تک اے پی آر ٹی سی ملازمین کی تائید حاصل ہوئی ہے۔ اور اب تازہ اطلاع کے مطابق تلنگانہ کے سرکاری ملازمین کی جانب سے ہڑتالی ملازمین کی تائید کرنے کا اعلان ہڑتالی ملازمین ٹی آر ایس کیلئے انتہائی ہمت افزائی کا باعث بن گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری ملازمین نے صرف اپنے تائیدی بیان تک ہی محدود نہ رہتے ہوئے عملی اقدام کرنے حکمت عملی مرتب کرنے کوشاں ہیں ۔ تلنگانہ جدوجہد کے موقع پر تلنگانہ سرکاری ملازمین کی جانب سے کی گئی ہڑتال کے موقع پر آر ٹی سی ملازمین نے بھی ان کی تائید کرکے ہڑتال میں حصہ لیا تھا اور اب موجودہ صورتحال کے پیش نظر سرکاری ملازمین ٹی آر ایس ملازمین کی تائید کرنے کا اقدام کر رہے ہیں ۔ ٹی ایس آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کو کامیاب بنانے اور اپنی تائید کا اظہار کرنے تلنگانہ ملازمین ’پن ڈاون‘ ہڑتال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اطلاعات پائی جاتی ہیں ۔ تلنگانہ سرکاری ملازمین یونینوں کے ذرائع کے مطابق دسہرہ تہوار کے فوری بعد تعطیلات ختم ہوتے ہی ایک یا دو دن تک پن ڈاون ہڑتال شروع کرنے کا سرکاری ملازمین پروگرام مرتب کر رہے ہیں ۔ بتایا جا رہا ہے کہ سرکاری ملازمین یونینوں کے قائدین اس مسئلہ پر متحدہ اقدام کرنے پر صلاح و مشورہ کا آغاز کرچکے ہیں تاکہ ملازمین پر اس کے منفی اثرات مرتب نہ ہوسکیں ۔ ذرائع کے مطابق دسہرہ تہوار کے فوری بعد تلنگانہ ریاستی سرکار ملازمین ‘ اساتذہ اور ورکرس کی ملازمین یونینوں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی ایک اہم اجلاس طلب کرکے تفصیلی غور و غوض کے ذریعہ کوئی فیصلہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ اور اگر تلنگانہ ریاستی سرکاری ملازمین کی ٹی ایس آر ٹی سی کے ہڑتالی ملازمین کو بھرپور تائید حاصل ہونے کی صورت میں حالات مکمل تبدیل ہوجائیں گے ۔ کیونکہ کسی کی تائید کے بغیر تنہا ہڑتال شروع کرنے پر عوام کئی ایک مسائل و مشکلات سے دو چار ہیں تو مزید تائید حاصل ہونے پر غیر معینہ مدت کی ہڑتال جاری رہنے کی صورت میں ریاست کے حالات مکمل ٹھپ ہو جانے کا خدشہ لاحق ہوگا ۔