آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کیلئے خانگی ڈائگناسٹک سنٹرس کی لوٹ مار

   

سرکاری قیمت 500 روپئے تاہم 4000 روپئے کی وصولی ، رپورٹ کی اجرائی میں بھی تاخیر
حیدرآباد ۔ کورونا کی دوسری لہر جہاں ایک طرف خوف طاری کر رہی ہے وہیں دوسری ڈائگناسٹک سنٹرس کی جانب سے آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کیلئے عوام کو لوٹا جارہا ہے ۔ حکومت نے آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کیلئے 500 روپئے قیمت مقرر کی مگر زیادہ تر ڈائگناسٹک سنٹرس کی جانب سے 2 تا 4 ہزار روپئے تک وصول کئے جارہے ہیں ۔ ٹسٹ کرانے عوام کی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے رپورٹ چار تا پانچ دنوں میں دینے شرط رکھی جارہی ہے ۔ گذشتہ سال کورونا ٹسٹ کیلئے چند ڈائگناسٹک سنٹرس کو اجازت دی تھی فی الحال کوئی قواعد جاری نہیں ہوئے جس کی وجہ سے کئی ڈائگناسٹک سنٹرس آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کر رہے ہیں ۔ ریاست میں کورونا کی دوسری لہر قہر ڈھا رہی ہے ۔ معمولی علامتیں نظر آنے پر عوام ٹسٹ کرا رہے ہیں ۔ اس کا ڈائگناسٹک سنٹرس ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ 24 گھنٹوں میں آنے والے نتیجہ کو چار پانچ دن بعد دیا جارہا ہے ۔ جس سے متاثر اور غیر متاثر کو انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔ اگر کوئی متاثر ہے تو اس وباء دوسروں کو پھیلنے کا خطرہ ہے ۔ دوسری جانب کلینکل سنٹرس خون کا ٹسٹ کرنے چھوٹے لیابس میں حفاظتی انتظامات کا پاس و لحاظ رکھے بغیر نمونہ حاصل کر رہے ہیں ۔ ان نمونوں کو جان پہچان کے ڈائگناسٹک سنٹرس کو منتقل کرکے ٹسٹ کرا رہے ہیں اور آر ٹی پی آر سی ٹسٹ کیلئے 4 ہزار روپئے تک وصول کر رہے ہیں ۔ ڈائگناسٹک سنٹرس کی جانب سے آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کیلئے 2 ہزار روپئے وصول کئے جارہے ہیں ۔ جلد رپورٹ دینے کا وعدہ کرکے چھوٹے سنٹرس 4 ہزار روپئے کے علاوہ پی پی ای کٹس ، رجسٹریشن سیفٹی چارجس کے نام پر من مانی رقم وصول کر رہے ہیں ۔ محکمہ صحت نے گذشتہ سال خانگی ہاسپٹلس اور ڈائگناسٹک سنٹرس کیلئے آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کرنے احکامات جاری کئے ۔ ٹسٹ کے ساتھ پی پی ای کٹس و دیگر اخراجات کے ساتھ 500 روپئے قیمت مقرر کی گھروں پر جاکر نمونے لینے پر 750 روپئے قیمت مقرر کی تاہم خانگی ہاسپٹلں ، ڈائگناسٹک سنٹرس اور لیابس کی جانب سے ان قواعد پر کوئی عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔