آروگیہ شری اسکیم پر اسمبلی میں ہنگامہ، چیف منسٹر کا اپوزیشن کو سخت جواب

   

2408 کروڑ روپئے کے بقایہ جات جاری کرنے کا دعویٰ، بی آر ایس حکومت پر 600 کروڑ روپئے بقایہ رکھنے کا الزام
حیدرآباد ۔26 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں آروگیہ شری اسکیم پر آج گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی ، جہاں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اپوزیشن کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا۔ بحث کے دوران بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ آروگیہ شری اسکیم کے بل گرین چیانل کے ذریعہ جاری کئے جائیں گے لیکن حقیقت میں ادائیگیاں نہیں ہورہی ہیں۔ اس پر جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ اپوزیشن حکومت پر جھوٹے الزامات لگاکر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی آر ایس حکومت نے آروگیہ شری کے تقریباً 600 کروڑ روپئے بقایہ جات جاری نہیں کئے تھے ، جن میں سے کانگریس حکومت 240 کروڑ روپئے سرکاری اسپتال اور 360 کروڑ روپئے خانگی ہاسپٹل کو ادا کرنا باقی تھا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس حکومت اقتدار میں آنے کے بعد سے ہر ماہ اوسطاً 89 کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے اب تک جملہ 2408 کروڑ روپئے کے بقایہ جات ادا کرچکی ہے۔ ان میں سے 927 کروڑ روپئے سرکاری اسپتالوں کو اور 1480 کروڑ روپئے خانگی اسپتال کو ادا کئے گئے ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ آروگیہ شری اسکیم کے حوالے سے غلط تاثر پھیلایا جارہا ہے کہ غریبوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت غریب عوام کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے پوری طرح سنجیدہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بی آر ایس حکومت کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سی ایم ریلیف فنڈ (سی ایم آر ایف) کا بڑے پیمانہ پر غلط استعمال کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ کس کے پی اے نے فنڈس کا غلط استعمال کیا اور اس معاملہ کی تحقیقات جاری ہے ، جلد ہی تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اندراماں حکومت نے غریب عوام کی طبی امداد پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ ڈاکٹرس کے علاوہ طبی عملہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کئے جا رہے ہیں۔ سرکاری اسپتال میں جدید طرز کے آلات کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اسپتالوں کی تعمیرات پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ ادویات کے اسٹاک اور دیگر ضرورتوں پر خصوصی احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اس معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔2