انچارج وائس چانسلر و پرنسپل سکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق اروند کمار کا اقدام
حیدرآباد۔ جامعہ عثمانیہ میں موجود آرٹس کالج کی خوبصورت عمارت کے تحفظ اور آہک پاشی کیلئے 3 کروڑ روپئے منظورکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آرٹس کالج کی چھت ٹپکنے کی شکایات کا جائزہ لینے کے بعد انچارج وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی و پرنسپل سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق مسٹر اروند کمارنے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ آرٹس کالج کی عمارت کی چھت کی مرمت اور پانی ٹپکنے کی شکایت کو دور کرنے کیلئے کاموں کی ذمہ داری حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو تفویض کی جائے گی۔ انہو ںنے آرٹس کالج کی عمارت کے تحفظ کے سلسلہ میں فوری اقدامات کے تحت 8 کروڑ کی اجرائی کے احکام جاری کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ عثمانیہ کی اس انتہائی خوبصورت اور اہم تاریخی عمارت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے علاوہ جامعہ عثمانیہ میں ہریتا ہرم کے ذریعہ شجر کاری اور یونیورسٹی کی سڑک پر اسٹریٹ لائٹس اور ایل ای ڈی کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مسٹر اروند کمار جو کہ شہر حیدرآباد کی تاریخی و تہذیبی ورثہ سے شخصی دلچسپی رکھتے ہیں نے شہر حیدرآباد کی کئی اہم تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں بالخصوص معظم جاہی مارکٹ کے علاوہ کلاک ٹاؤرس کی آہک پاشی و تزئین نو کے ذریعہ ان کی عظمت رفتہ بحال کرنے کے اقدامات کئے ہیں ان کی توجہ اب جامعہ عثمانیہ کی آرٹس کالج کی عمارت پر مرکوز ہوئی ہے اور کہا جار ہاہے کہ حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے جلد ہی اس عمارت کے مرمتی کامو ںکا آغاز کیا جائے گا۔جامعہ عثمانیہ کی اس عمارت کی عظمت رفتہ کی بحالی کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ اقدامات کئے گئے لیکن اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن موجودہ انچارج وائس چانسلر مسٹر اروند کمار جو خود پرنسپل سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق ہیں نے اپنے محکمہ کے تحت موجود حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ذریعہ آرٹس کالج کی عمارت کی مرمت اور پانی ٹپکنے کی شکایات کو دور کروانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ مسٹر اروند کمار نے عہدیداروں پر واضح کیا کہ ان کاموں کی وہ خود راست نگرانی کریں گی اور عمارت کے کامو ںمیں کسی بھی طرح کی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق جاریہ ماہ کے آخری ہفتہ میں ہی بجٹ کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی اور جامعہ عثمانیہ کی اس اہم عمارت کے مرمتی کاموں کا آغاز کردیا جائے گا اور اندرون تین ماہ ان کاموں کو مکمل کرنے کے عمل کا جائزہ لینے کے بعد ہی ٹنڈر کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی۔