ڈیٹا انٹری آپریٹرس اور کال سنٹر ایجنٹس کی جائیدادوں پر 80 فیصد سے زائد اثر، ہندوستان میں ملازمتوں پر سروے
حیدرآباد ۔یکم اپریل (سیاست نیوز) زندگی کے ہر شعبہ میں آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال میں اضافہ ایک طرف سہولتوں میں اضافہ اور کام میں دشواریوں کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہورہا ہے تو دوسری طرف مختلف شعبہ جات میں ملازمتوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ہندوستان میں آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال سے انفارمیشن ٹکنالوجی شعبہ میں ملازمتوں پر اثر پڑسکتا ہے کیونکہ آئی ٹی کمپنیوں کو آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال سے کم خرچ میں بہتر کارکردگی کے امکانات پیدا ہوچکے ہیں ۔ کال سنٹرس میں ہندوستان کے بڑے شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں نوجوان خدمات انجام دے رہے ہیں اور جیسے جیسے آرٹیفشل انٹلیجنس نے کمپنیوں کو متبادل کی رہنمائی کردی ہے ، ایسے میں ڈیٹا انٹری آپریٹرس ، کال سنٹر ایجنٹس ، لون پروسیسنگ آفیسرس ، جونیئر ڈیولپرس اور سیلس ریپریزینٹیٹیوز کی خدمات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ آرٹیفشل انٹلیجنس کے نتیجہ میں ڈیٹا انٹری آپریٹرس کی جائیدادوں کو 85 فیصد خطرہ لاحق ہوسکتا ہے جبکہ کال سنٹر ایجنٹس کی 80 فیصد جائیدادیں متاثر ہوں گی۔ لون پرویسیسنگ آفیسرس کے عہدہ پر 75 فیصد اور جونیئر ڈیولپرس کے عہدوں میں 67 فیصد کی کٹوتی کا اندیشہ ہے کیونکہ آرٹیفشل انٹلیجنس کے ذریعہ کئی اہم خدمات بہتر طور پر انجام پارہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں روزگار کے مواقع کا انحصار ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال پر رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل کی ترجیحات میں سائبر سیکوریٹی اور آرٹیفشل انٹلیجنس کے کورسس شامل ہوچکی ہیں۔1