آسام میں مبینہ لوجہاد قانون کے متبادل کی مساعی

   

قانون ہندو مسلمان دونوں طبقات پر لاگو ہوگا: چیف منسٹر ہیمنت بسوا سرما
گوہاٹی: اب بی جے پی کے زیرقیادت آسام میں بھی مبینہ لو جہاد جیسا قانون لایا جائے گا۔ چیف منسٹر ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ یہ قانون ایسے لوگوں پر نگاہ رکھے گا جو اپنے مذہب کو چھپا کر لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسے لوجہاد قانون نہیں کہا جائے گا اور اس کا اطلاق ہندو اور مسلمان دونوں پر ہوگا۔ چیف منسٹر ہیمنت بسوا سرما نے کہا ہے کہ اس قانون کے متعارف ہونے کے بعد یہاں تک کہ ایک ہندو مرد بھی اپنی معلومات کو چھپا کر کسی ہندو عورت سے شادی نہیں کر سکے گا۔ہم اس قانون کے لیے لوجہاد کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہندو بھی دھوکہ دہی کے ذریعہ شادی نہیں کرسکتے۔ جب کوئی مسلمان کسی ہندو عورت کو دھوکہ دیتا ہے تو یہ لو جہاد نہیں ہے۔میرے نزدیک یہ بھی جہادہے ، جب کوئی ہندو یہ کام کرتا ہے۔ یہ قانون دھوکہ دہی سے شادی کرنے والوں کو روک دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انتخاب کے دوران اپنے منشور میں اس کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہم گائے کے تحفظ کا قانون لائیں گے۔ اس کے بعد ہم دو بچوں کے قانون کو نافذ کریں گے ، تب ہم یہ قانون لائیں گے۔شادی سے متعلق قانون لانے کے ساتھ ساتھ آسام حکومت بھی مقامی مذہب اور ثقافت کا ایک شعبہ تشکیل دے گی۔اس کی توجہ ان علاقوں پر مرکوز ہوگی جہاں مسلم تارکین وطن کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہیمنت بسوا سرمانے کہا کہ جو لوگ تمام عقائد پر یقین رکھتے ہیں انہیں اس محکمے کے ذریعے فائدہ دیا جائے گا۔