آسام میں مسلمانوں کے گھروں کا غیر قانونی طریقہ سے انہدام : ہرش مندر

   

نئی دہلی۔ 26 اگست (یو این آئی) آسام حکومت کو مسلمانوں کے تئیں متعصب حکومت ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے معروف سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر نے کہاکہ وہاں مسلمانوں کے گھروں اور اداروں کو نہ صرف منہدم کیا جارہا ہے بلکہ بغیر کسی قانونی عمل کے انہیں غیر ملکی قرار دیکر باہر بھیجا جارہا ہے ۔ انہوں نے یہاں اسوسی ایشن فار پروٹیکشن سول رائٹس (اے پی سی آر) اور کارروان محبت کے زیر اہتمام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ برسات کے موسم میں ایک خاص طبقے کو گھروں کو منہدم کیا جارہا ہے ، کوئی لڑکا اس کے خلاف احتجاج کرتا ہے تو اسے گولی ماردی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انہیں صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے حراستی کیمپ میں بھیجا جارہا ہے جہاں ان کے کوئی حقوق نہیں ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں کچھ حقوق ہوتے ہیں لیکن حراستی کیمپ میں ان کے لئے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی غیر ملکی ہے تو ا س کے لئے ایک ضابطہ ہے اور قانونی عمل پورا کرکے اسے بھیجا جاتا ہے لیکن زبردستی 1500لوگوں کو بارڈر پر بھیج دیا گیا۔انہوں نے دعوی کیا کہ آسام حکومت کا خیال ہے کہ قانون کچھ بھی ہو لیکن جو مجھے کرنا ہے وہ کرکے رہیں گے ۔ سپریم کورٹ کے معروف وکیل پرشانت بھوشن نے آسام میں مسلمانوں کے بدترین حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کا گھر نہ صرف غیر قانونی طور پر توڑا جارہا ہے بلکہ انہیں غیر قانونی طور پر باہر بھی بھیجا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ صرف ہندوستانی قانون کے ہی خلاف نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی خلاف ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں صرف مسلمان نشانہ پر ہوں گے وہ غلط ہیں کیوں کہ قبائلیوں کو زمین اور گھر سے بے دخل کرکے ان کی زمین کارپوریٹ گھرانوں کو الاٹ کی جارہی ہے ۔ پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید نے آسام میں مسلمانوں کے حالات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہاکہ میں پلاننگ کمیشن کے رکن کی حیثیت سے بہت گھومی ہوں لیکن جو نظارہ اب دکھ رہا ہے وہ بہت ہی افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس ظلمت کے دور میں بھی ہرش مندر، پرشانت بھوشن، اپوروانند، جواہر سرکار جیسے لوگ موجود ہیں اس ظلم و جبر کے خلاف لڑ رہے ہیں۔