آسرا پنشن کیلئے تمام مستحق افراد کے نام شامل کئے جائیں

   

Ferty9 Clinic

عہدیداروں کو ہریش راؤ کی ہدایت، عوامی نمائندوں کے ساتھ ٹیلی کانفرنس ، رعیتو بیمہ اسکیم کا جائزہ

حیدرآباد۔/22 اگسٹ، ( سیاست نیوز) وزیر فینانس ہریش راؤ نے عوامی نمائندوں اور عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ آسرا پنشن اور رعیتو بیمہ اسکیمات سے استفادہ کیلئے تمام مستحق افراد کی نشاندہی اور ان کا نام اسکیم میں درج کرنے کے کام میں تیزی پیدا کریں۔ ہریش راؤ نے ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، ارکان کونسل، مقامی عوامی نمائندوں کے علاوہ عہدیداروں کے بشمول تقریباً 2000 افراد کے ساتھ ٹیلی کانفرنس کا اہتمام کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آسرا پنشن کیلئے عمر کی حد کو گھٹا کر 57 سال کردیا ہے اور جاریہ ماہ کے ختم تک درخواست داخل کرنے کی سہولت موجود ہے۔ عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو اسکیم سے آگاہ کریں اور حقیقی مستحق افراد کے نام شامل کرنے کی مساعی کریں۔ انہوں نے کہا کہ رعیتو بیمہ اسکیم پر عمل کرنے والی تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے۔ اس کے علاوہ 57 سال عمر کے افراد کو پنشن کی فراہمی میں تلنگانہ حکومت نے دیگر ریاستوں کیلئے مثال قائم کی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ عوام کی فلاح و بہبود کے معاملہ میں ہمیشہ سنجیدہ رہے ہیں۔ ملک کی کئی ریاستوں حتیٰ کہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کی بعض اسکیمات کو اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ ماہ کے اواخر تک آسرا پنشن اور رعیتو بیمہ کے مستحق افراد کے ناموں کی شمولیت کیلئے باقاعدہ مہم چلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر عوام اسکیمات کے فوائد اور ناموں کی شمولیت کے طریقہ کار سے واقف نہیں ہوتے۔ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستحق افراد کے ناموں کی شمولیت میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ پنشن کیلئے ناموں کی شمولیت کے سلسلہ میں درخواست گذاروں کو سرویس چارجس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ می سیوا مراکز کو حکومت کی جانب سے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ انہوں نے کسانوں میں رعیتو بیمہ اسکیم کے فوائد کیلئے باقاعدہ مہم چلانے کا مشورہ دیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تمام میونسپلٹیز اور گاؤں میں مقامی عوامی نمائندوں اور عہدیداروں کو اسکیم پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی اسکیمات اور بین الاقوامی سطح پر زرعی پیداوار کی طلب میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے تلنگانہ حکومت نے کسانوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فصلوں کی خریدی کے علاوہ عصری سہولتوں کے ساتھ مارکٹس تعمیر کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بیج اور کھاد کی فراہمی کیلئے ضلع کلکٹرس کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ نقلی بیج اور کھاد سربراہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔R