برسی کے موقع پر مسجد جودی کنگ کوٹھی میں مختلف شعبہ حیات کی شخصیتوں نے خراج پیش کیا
حیدرآباد۔24فبروری(سیاست نیوز) آصف جاہ سابع نواب عثمان علی خان بہادر کی برسی کے موقع پر مسجد جودی کنگ کوٹھی پہنچ کر مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے سماجی ‘ مذہبی ‘ سیاسی قائدین نے مزار آصف جاہ سابع پر گلہائے عقیدت پیش کیا۔ جناب ساجد پیرزادہ کی قیادت میں نواب میر نجف علی خان ابن پرنس شاہ مت جاہ بہادر ‘ انورادھا ریڈی اور عثمانیہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس جے اے سی لیڈران اور دیگربھی موجود تھے۔ آصف جاہ سابع کے کارناموں کو ناقابل فراموش قراردیتے ہوئے مذکورہ قائدین نے 24فبروری کو سرکاری تعطیل کا اعلان کرنے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد آصف سابع تقاریب منانے کے اعلان کو بھی فراموش کردینے کا حکومتوں پر الزام عائد کیا اور کہاکہ تلنگانہ کی ترقی آصف سابع کی مرہون منت ہے۔ تلنگانہ میں موجود تاریخی مقامات ‘ تعلیمی اداروں‘ سرکاری اسپتالوں سے سرائے خانوں کے قیام کو آصف سابع کے کارنامے قراردیتے ہوئے شرکاء نے نواب عثمان علی خان بہادر کو ہندوستان کا عظیم سکیولر حکمران قراردیا او رکہاکہ اپنے دور حکومت میں نواب عثمان علی خان بہادر نے ریاست اور رعایہ کو ترجیح دیا اور رعایہ پروری کی ایسی مثال قائم کی کہ آصف جاہی دور حکومت میں ایک فرقہ وارانہ فسادنہیں ہوااو رنہ کبھی فرقہ پرستوں کو عوام میں زہر گھولنے کاموقع ملا ۔جناب ساجد پیرزادہ نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ نظام ِ دکن نواب عثمان علی خان کے نام سے ایک مرکزِ اتحاد( Unity Center) قائم کرے جہاں ریاست کے تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنی مذہبی تقاریب منعقد کرنے کاموقع فراہم کیاجانا چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ آصف سابع کو حقیقی معنی میںخراج ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دے کر ادا کیاجاسکتا ہے۔انہوں نے سابقہ و موجودہ حکومتوں کو آصف سابع کے کارناموں کو نظر انداز کرنے کا مورد الزام ٹہرایا۔عثمانیہ یونیورسٹی جے اے سی لیڈر راجو گوڑ نے کہاکہ جمہوری ہندوستان میں کسی حکمران نے اپنی ذاتی اراضی کسی بھی تعلیمی ادارے کیلئے مختص نہیں کی مگر نظام ہشتم نے شاہی ریاست میںاس کام کوانجام دے کر جمہوری حکمرانوں کیلئے پیغام دیا ہے ۔ انورادھا ریڈی نے آصف جاہی حکمرانوں بالخصوص آصف سابع کے کارناموں کو بھر پور خراج عقیدت پیش کیا۔ جناب ساجد پیرزادہ نے اجتماعی دعاکی ‘ مزار آصف جاہ سابع پر چادر گل پیش کئے گئے ۔