آن لائن ادائیگی ، تاجرین کو مشکلات،چھوٹے تاجرین سے نقدی وصول ، محکمہ جی ایس ٹی سے نوٹس کی اجرائی

   

حیدرآباد۔16جولائی (سیاست نیوز) ملک بھر میں آن لائن ادائیگیوں کا غبارہ اب پھٹنے کو ہے کیونکہ آن لائن ادائیگیوں میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے بعد اب چھوٹے تاجرین مشکلات میں مبتلاء ہونے لگے ہیں اور اب وہ آن لائن وصولیوں کا سلسلہ بند کرنے جا رہے ہیں۔ بنگلورو جو کہ آن لائن ادائیگیوں اور وصولی کے معاملہ میں ہندستان میں سرفہرست شمار کیا جانے لگا تھا اب اس شہر میں چھوٹے تاجرین نے آن لائن وصولی بند کرتے ہوئے اپنے گاہکوں کو نقد ادائیگی کے لئے مجبور کرنا شروع کردیا ہے کیونکہ آن لائن وصولیوں کے نتیجہ میں انہیں جی ایس ٹی کی جانب سے نوٹسیں وصول ہونے لگی ہیں۔ آن لائن ادائیگی اور وصولی کے معاملہ میں ابتداء سے ہی یہ کہا جارہا تھا کہ آن لائن ادائیگی اور وصولی مستقبل قریب میں ادا کرنے والوں اور وصول کرنے والوں دونوں کے لئے ہی مسئلہ بن سکتی ہے اور اب یہ مسئلہ بننے لگی ہے ۔ جنوبی ہند کے انفرمیشن ٹکنالوجی کے مرکز تصور کئے جانے والے شہر بنگلورو میں چھوٹے تاجرین نے آن لائن وصولی سے انکار کرتے ہوئے اپنے گاہکوں کو نقد ادا ئیگی کے لئے مجبور کرنا شروع کردیا ہے کیونکہ محکمہ جی ایس ٹی کی جانب سے آن لائن وصولیوں کی بنیاد پر نوٹسیں جاری کی جانے لگی ہیںجس کے نتیجہ میں چھوٹے تاجرین کومشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ آن لائن کی جانے والی ادائیگیوں اور وصولی کے نتیجہ میں جو ریکارڈس ہیں ان تک جی ایس ٹی حکام کی رسائی کے علاوہ دیگر محکمہ ٹیکس کے حکام کی رسائی ہونے کے سبب ادائیگی کرنے والوں کے اخراجات اور کاروبار کرنے والے تاجرین کو حاصل ہونے والی آمدنی کی مکمل تفصیلات عہدیداروں تک پہنچ رہی ہیں جس کے نتیجہ میں تاجرین کو نوٹس جاری کی جانے لگی ہیں۔چھوٹے تاجرین جو یومیہ 3تا4ہزار روپئے کا کاروبار کرتے ہوئے معمولی رقم کماتے ہیں انہیں جی ایس ٹی کے نوٹس انہیں ہراسانی کے مترادف ہیں اسی لئے وہ اب آن لائن وصولی سے انکار کرنے لگے ہیں۔ بتایاجاتا ہے جی ایس ٹی کے قواعد کے مطابق ٹرن اوور کی بنیاد پر جی ایس ٹی رجسٹریشن کروایا جانا لازمی ہے اور آن لائن وصولی کے بعد کوئی بھی تاجر اپنے ٹرن اوور کو مخفی رکھنے کے موقف میں نہیں ہے لیکن چھوٹے تاجرین جو معمولی آمدنی رکھتے ہیں وہ اگر جی ایس ٹی رجسٹریشن کرواتے ہیں تو انہیں جی ایس ٹی کے تحت اپنے تختۂ حساب محکمہ کو لازمی طور پر پیش کرنے ہوں گے اور اس کے لئے انہیں سی اے کی خدمات حاصل کرنی پڑے گی جو کہ چھوٹے تاجرین کے لئے ممکن نہیں ہے۔3