آن لائن قرض کے نام ایس ایم ایس کا سلسلہ برقرار

   


قرض دہندہ کے رازوں کا افشاء ، مارکیٹنگ اور کال سنٹرس کا استعمال
حیدرآباد۔ پولیس کی جانب سے آن لائن لون ریاکٹس کے خلاف کاروائی کے باوجود اب بھی شہریوں کو آن لائن ایپ کے ذریعہ قرض حاصل کرنے کی پیشکش کے ایس ایم ایس موصول ہورہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد میں پولیس کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کے باوجود بھی ملک کی دیگر ریاستوں میں موجود ان ایپ کے مارکٹنگ اور کال سنٹرس کی جانب سے ان کی اپنی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں پولیس کی جانب سے تین خودکشیوںکے واقعات کے بعد شہر حیدرآباد میں موجود کال سنٹرس کے خلاف کاروائی کے اقدامات کئے جاتے رہے ہیں اور کا سلسلہ اب بھی جاری ہے لیکن اس کے باوجود ایس ایم ایس اور ای میل کے علاوہ موبائل پر قرض کی پیشکش کی جا رہی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی پولیس کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں کے باوجود جن لون ایپلیکیشن کی جانب سے قرض کی پیشکش کی جا رہی ہے ان کا جائزہ لیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے جن قرض کی ایپلیکیشن اب بھی کام کررہی ہیں ان کے لائسنس اور بینکنگ سیکٹر سے تعلق اور ریزرو بینک آف انڈیا کے رہنمایانہ خطوط کا جائزہ لیا جا رہاہے۔ریاست تلنگانہ اور آندھراپردیش میں پولیس کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے باوجود موصول ہونے والے ان ایس ایم ایس سے شہریوں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان قرض کی فراہمی والے ایپلیکیشن کی جانب سے اگر آپ کو قرض فراہم نہ بھی کرنا ہوتو وہ آپ کا ڈاٹا تو حاصل کرلیتے ہیں اور آپ کی جانب سے فراہم کیا جانے والا ڈاٹا اور آپ کی اپنی شخصی تفصیلات کس حد تک محفوظ ہیں اس کی کوئی گیارینٹی نہیں ہے ۔ اگر یہ کمپنیاں قرض فراہم کرتی بھی ہیں تو ان کمپنیوں کو آپ کے فون میں موجود تمام تفصیلات حاصل ہوجاتی ہیں اور وہ ان تفصیلات کی بنیاد پر دیگر فون نمبرات تک رسائی حاصل کرتے ہوئے اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ جتنا ممکن ہوسکے ڈاٹا جمع کیا جائے ۔پولیس کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کے دوران ان کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی ہراسانیوں کے ساتھ ان کے پاس موجود ڈاٹا کی بھی مکمل جانچ کی جانی چاہئے تاکہ ریاست تلنگانہ ہی نہیں بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر کس طرح سے ڈاٹا کی فروخت کی جارہی ہے۔ آئی ٹی ماہرین کا کہناہے کہ ان آن لائن قرض فراہم کرنے والوں کی جانب سے قرض کی اجرائی سے زیادہ ڈاٹا کی فروخت سے آمدنی حاصل کی جا رہی ہے جو کہ دنیا بھر میں تیل کی دوسری شکل مانا جا رہاہے۔