ہیرٹیج بلڈنگ کو آندھرا پردیش حکومت استعمال کرے گی ، لیک ویو گیسٹ ہاوز پر حکومت تلنگانہ کی خاموشی
حیدرآباد ۔ 16 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : حکومت آندھرا پردیش نے شہر حیدرآباد میں آندھرا پردیش حکومت کے قبضہ میں پائی جانے والی عمارتوں کو 19 جون کو تلنگانہ حکومت کے حوالہ کردینے کا فیصلہ کرتے ہوئے تیاریاں شروع کردی ہے ۔ گذشتہ دنوں تلنگانہ حکومت کی اپیل کیے جانے کے پیش نظر چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے ان تمام عمارتوں کو ( جو کہ ریاست آندھرا پردیش حکومت کے تحت پائی جاتی ہیں) تلنگانہ ریاستی حکومت کے حوالہ کرنے کے لیے اپنی رضا مندی کا اظہار کرچکے ہیں اور اس رضا مندی کے پیش نظر ہی ریاستی چیف سکریٹری آندھرا پردیش مسٹر ایل وی سبرامنیم نے تلنگانہ ریاستی چیف سکریٹری مسٹر ایس کے جوشی کے نام موسومہ ایک مکتوب تحریر کر کے روانہ کیا ہے اور بتایا کہ سکریٹریٹ حیدرآباد کے احاطہ میں ریاست آندھرا پردیش کو مختص کردہ عمارتوں ، اسمبلی و کونسل عمارتوں کے ساتھ ساتھ ارم منزل میں واقع انجینئر ان چیف آفس کی عمارتوں اور خالی پڑے ہوئے وزراء اور ارکان اسمبلی کے کوارٹرس وغیرہ کو ریاستی تلنگانہ حکومت کے حوالہ کردئیے جائیں گے ۔ جب کہ حکومت آندھرا پردیش کے اڈمنسٹریشن ضروریات کے پیش نظر صرف دو عمارتوں کو اپنی نگرانی میں رکھتے ہوئے استعمال کرنے کا حکومت آندھرا پردیش نے اظہار کیا ہے لیکن اس میں ایک ہی ’ ہیرٹیج بلڈنگ ‘ کو ہی استعمال کرلینے سے حکومت آندھرا پردیش نے اتفاق کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت آندھرا پردیش کو محکمہ پولیس کی ضروریات کے لیے کونسی بلڈنگ کی ضرورت ہوگی محکمہ پولیس کے عہدیدار فیصلہ کریں گے ۔ ریاستی چیف سکریٹری حکومت آندھرا پردیش نے مزید بتایا کہ لیک ویو گیسٹ ہاوز بھی حکومت آندھرا پردیش کے قبضہ میں ہی ہے ۔ لیکن حکومت تلنگانہ نے اس عمارت کو حوالہ کرنے کی خواہش نہیں کی ہے لیکن اگر پوچھنے کی صورت میں اس وقت ہی حکومت آندھرا پردیش اپنا کوئی فیصلہ کرے گی اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ بہت جلد حکومت آندھرا پردیش شہر حیدرآباد میں اپنے قبضہ میں پائی جانے والی عمارتوں کو ریاستی تلنگانہ حکومت کے حوالہ کردے گی ۔۔
