جگن موہن ریڈی نے راج شیکھر ریڈی کی یاد تازہ کردی ۔ ریاست بھر کی اقلیتوں کی جانب سے مسرت کا اظہار ۔ حکومت کے فیصلے کی ستائش
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔18ستمبر۔ آندھرا پردیش کابینہ نے تاریخ ساز فیصلہ میں اقلیتوں کیلئے سب پلان کو منظوری دے دی ہے۔ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے کابینی اجلاس میں ایس سی ‘ ایس ٹی اور بی سی طبقہ کے طرز پر اقلیتوں کیلئے بھی سب پلان کو منظوری دے کر ان کی ترقی کی راہیں ہموار کی ہیں اور اس سب پلان کی منظوری کے بعد اب آندھراپردیش کی اقلیتو ںکو تمام اسکیمات اور ترقیاتی منصوبوں میںآبادی کے اعتبار سے حصہ حاصل ہوگا ۔ کابینہ میں منظورہ ذیلی منصوبہ کے تحت ان تمام اسکیمات اور ترقیاتی کاموں میں جن میں طبقہ واری اساس پر تقسیم کی گنجائش ہے ان میںآبادی کے اعتبار سے ترقیاتی امور کے علاوہ بجٹ پر اقلیتوں کا حق ہوگا۔ عہدیداروں کے مطابق حکومت کی جانب سے ایک لاکھ کروڑ فلاحی وبہبود کی اسکیمات کیلئے مختص کئے جاتے ہیں تو اقلیتی ذیلی منصوبہ کے تحت اقلیتوں کیلئے زائد از10 ہزار کروڑ خرچ کیا جانا لازمی ہوجائے گا۔ حکومت کے اس فیصلہ کے بعد اقلیتوں میں جشن کا ماحول پیدا ہوگیا اور آندھرا پردیش کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی جانب سے حکومت سے اظہار تشکر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کے فیصلے سے آندھرا پردیش کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ اقلیتوں کیلئے مختص ذیلی منصوبہ کو 17 محکمہ جات میں قابل عمل بنانے کو منظوری دی گئی ۔ کابینی ذرائع کے مطابق آندھرا پردیش میں محکمہ بہبود‘ محکمہ تعلیم ‘ محکمہ بلدی نظم و نسق ‘ محکمہ عمارات و شوارع‘ محکمہ صحت‘ کے علاوہ دیگر محکمہ جات میں اقلیتی ذیلی منصوبہ کو قابل عمل بنایا جائے گا۔ وائی ایس آر کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وائی ایس آر سی پی کو اقتدار حاصل ہوتا ہے تو وہ اقلیتوں کیلئے آبادی کے اعتبار سے سب پلان کو منظوری دے گی اور ان کی مجموعی ترقی کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ اقلیتوں کیلئے سب پلان کی تیاری سے قبل سچر کمیٹی ‘ رنگاناتھ مشرا کمیشن میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی صورتحال کا باریکی سے جائزہ لیا گیا اس کے علاوہ ذیلی منصوبہ کی تخصیص کیلئے حکومت نے اقلیتوں کا سماجی اور معاشی سروے کرواتے ہوئے ان کی زمینی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس کی بنیاد پر ہی اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ اقلیتوں کی مجموعی ترقی کیلئے انہیں خصوصی سب پلان منظور کیا جائے تاکہ حکومت سے مختص رقومات کو اقلیتوں پر بھی لازمی خرچ کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت آندھرا پردیش نے اس منصوبہ کی تیاری کی عہدیدارو ںکو ہدایت دی تھی اور ہدایات کے مختلف عہدیداروں نے مسلسل جائزہ لیتے ہوئے اسے تیار کیا ہے ۔ اس منصوبہ کی تیاری میں سابق پرنسپل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود ڈاکٹر محمد الیاس رضوی کا کلیدی کردار رہا ۔ آندھرا پردیش میں اقلیتوں کیلئے ایس ۔سی ‘ ایس ۔ٹی اور بی ۔سی طبقات کے طرز پرذیلی منصوبہ کو کابینہ کی منظوری کے بعد اسے اسمبلی میں پیش کرکے قانون کی شکل دی جائے گی اور برسراقتدار وائی ایس آر سی پی کو یقین ہے کہ اقلیتوں کو ذیلی منصوبہ کی تخصیص کے سلسلہ میں اپوزیشن کی جانب سے بھی کوئی مخالفت نہیں کی جائیگی اور نہ اس میں قانونی رکاوٹ پیدا ہوگی۔ ذیلی منصوبہ کی کابینہ میں منظوری پر آندھرا پردیش کے سرکردہ اقلیتی قائدین بالخصوص مسلمانوں نے کہا کہ چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے اپنے والد ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کی یاد تازہ کردی جنہوں نے متحدہ آندھرا پردیش میں اقتدار ملنے کے بعد اپنا وعدہ پوراکرکے مسلمانوں کو 4فیصد تحفظات فراہم کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی معاشی و سماجی حالت کو نظر میں رکھتے ہوئے ان کیلئے ذیلی منصوبہ کی منظوری آئین کے دائرہ میں ہے حکومت کا یہ فیصلہ ریاست کے تمام طبقات کی مساوی ترقی کو یقینی بنانے کی سمت اہم پیشرفت ہے۔
جگن حکومت تمام طبقات کی مساوی ترقی کی پابند : رکن اسمبلی حفیظ خان
حیدرآباد۔18ستمبر(سیاست نیوز) جگن حکومت تمام طبقات کی مساوی ترقی کے عہد کی پابند ہے اور اسے کوئی طاقت ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے سے روک نہیں سکتی۔ رکن اسمبلی کرنول عبدالحفیظ خان نے بی جے پی کی جانب سے اقلیتی سب پلان پر اعتراضات کو مسترد کردیا اور کہا کہ جگن حکومت نے اپنے منشور میں کئے گئے وعدے کو پورا کیا ہے ۔ انہوں نے حکومت پر خوش آمد پسندی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ چیف منسٹر نے انتخابی مہم کے دوران خود اقلیتی کی معاشی و تعلیمی پسماندگی کا مشاہدہ کیا تھا اور ان کی ہدایت پر اقلیتی سب پلان تیار کیا گیا ہے ۔
v