آندھراپردیش اسمبلی میں نشستوں کے الاٹمنٹ پر ہنگامہ آرائی

   

برسر اقتدار وائی ایس آر کانگریس اور تلگودیشم کے مابین گرماگرم مباحث : چندرا بابو کا ردعمل
حیدرآباد /17 جولائی ( سیاست نیوز ) آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی میں آج برسر اقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین ’’ قصہ کرسی کا ‘‘ معاملہ شروع ہوا ۔ دونوں جماعتوں کے مابین ایوان میں نشستوں کے الاٹمنٹ معاملہ پر زبردست نوک جھونک اور ہنگامہ آرائی کی صورتحال پیدا ہوئی ۔ کسی بھی جماعت یعنی وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور تلگودیشم پارٹی نے صبر و تحمل کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ جاری رہا ۔ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے کہا کہ قائد اپوزیشن این چندرا بابو نائیڈو ہر معاملہ پر ایک نیا تنازعہ پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہیں ۔ انہوں نے قائد اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ عوامی ہمدردی و تائید حاصل کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کر رہے ہیں اور کہا کہ ایوان میں تلگودیشم کی تعداد کم رہنے کے باوجود تلگودیشم ارکان اسمبلی کو زیادہ سے زیادہ اظہار خیال کرنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے ۔ نشستوں کے الاٹمنٹ کے مسئلہ پر آج اسمبلی میں تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب تلگودیشم کے ڈپٹی لیڈر مسٹر کے اچن نائیڈو کو قائد اپوزیشن نے چندرا بابو کے بازو کی نشست الاٹ نہ کرکے پیچھے کی طرف کی نشست الاٹ کی گئی ۔ چندرا بابو نے اس مسئلہ پر اسپیکر اسمبلی سے دریافت کیا کہ آیا ہمیشہ ایوان میں قائد اپوزیشن کی نشست کے بازو ہی ڈپٹی لیڈر کی نشست الاٹ کرنے اور قائد اپوزیشن کے بازو ہی بیٹھنے کی روایت ہے ۔ اس روایت کو آخر کیوں تبدیل کیا گیا ؟ یہاں تک کہ اگر حروف تہجی کے لحاظ سے بھی نشست الاٹ کی جائے تو بھی مسٹر اچن نائیڈو کا نام ہی پہلے آتا ہے ۔ لیکن انہیں عقبی نشست کس طرح الاٹ کی گئی پر وضاحت کرنے پر زور دیا ۔ علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ نشستوں کا الاٹمنٹ کرنا جمہوری اقدار کے مغائر اقدام ہے ۔ انہوں نے اسپیکر اسمبلی مسٹر ٹی سیتارام سے اس سلسلہ میں سنجیدگی سے غور کرنے اور روایت کے مطابق نشستوں کا الاٹمنٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔