آندھراپردیش میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے بجٹ نہیں

   

قرض کے حصول کی کوشش، تشہیری اسکیمات پر عمل آوری متاثر
حیدرآباد : آندھراپردیش حکومت ان دنوں مالیاتی بحران سے دوچار ہے اور وہ ملازمین کی تنخواہوں اور وظیفہ یابوں کے پنشن کی اجرائی کے موقف میں نہیں ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا سے حاصل کردہ 1600 کروڑ چیف منسٹر کی تشہیری اسکیم سوشیل پنشن کے تحت تقسیم کئے گئے ہیں جس کے نتیجہ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی مشکل مرحلہ میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کھلی مارکٹ میں قرض کے طور پر تین ہزار کروڑ حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ خزانہ کو پر کیا جاسکے۔ کووڈ۔19 اور لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں حکومت کی تشہیری اسکیمات پر عمل آوری میں دشواری ہورہی ہے اور سرکاری خزانہ پر بوجھ میں اضافہ ہوچکا ہے۔ جاریہ مالیاتی سال حکومت 30,000 کروڑ قرض حاصل کرنے کی مجاز ہے، جس میں سے ابھی تک 23,000 کروڑ پہلے سہ ماہی میں حاصل کرلئے گئے۔ مرکزی حکومت نے ایف آر بی ایم کے تحت آندھراپردیش کو بعض رعایتیں دی ہیں اور مزید 2 فیصد قرض کے حصول کی اجازت دی ہے۔ چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے معاشی صورتحال پر جائزہ اجلاس میں اس بات کی وضاحت کردی کہ حکومت کی تشہیری اسکیمات پر عمل آوری ان کی اولین ترجیح رہے گی۔