آندھراپردیش و مہاراشٹرا میں مقابلہ کیلئے بی آر ایس کی تیاریاں

   

ماہرین سے رپورٹ طلب، اے پی میں 25 لوک سبھا اور 175 اسمبلی نشستوں پر مقابلہ
حیدرآباد5 مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مہاراشٹرا و آندھر اپردیش میں بی آر ایس کی سرگرمیوں کو توسیع دینے پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ وہ دونوں ریاستوں میں ایسے اسمبلی و لوک سبھا حلقہ جات کا تعین کر رہے ہیں جن پر بی آر ایس مقابلہ کرسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مہاراشٹرا کے امتحانی حلقہ جات کے بارے میں کے سی آر نے ماہرین سے رپورٹ طلب کی ہے۔ چیف منسٹر کو بتایا گیا کہ 30 سے زائد اسمبلی حلقہ جات ایسے ہیں جہاں تلگو رائے دہندے فیصلہ کن موقف میں ہیں۔ ان حلقہ جات سے بی آر ایس کے مقابلہ کی صورت میں فائدہ ہوتا ۔ دوسری طرف آندھراپردیش میں لوک سبھا کی 25 اور اسمبلی کی 175 نشستوں پر مقابلہ کی تیاری کی جارہی ہے۔ بی آر ایس آندھراپردیش یونٹ کے صدر ٹی چندر شیکھر نے کہا کہ ملک بھر میں نئی پارٹی بی آر ایس کے حق میں عوامی تائید دیکھی جارہی ہے ۔ ملک بھر میں ترقی سے متعلق تلنگانہ ماڈل شہرت اختیار کرچکا ہے ۔ چندر شیکھر نے کہا کہ بی جے پی مذہبی منافرت کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ آندھراپردیش بی آر ایس کے صدر نے نئی دہلی میں پارٹی کے قومی دفتر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قومی پارٹی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن بی جے پی سے مقابلہ میں ناکام ہوچکی ہے۔ بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر ملک بھر میں بی جے پی سے مقابلہ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مرکز میں برسر اقتدار آنے پر آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کے تحت کئے گئے وعدوں پر عمل کیا جائے گا ۔ چندر شیکھر کا کہنا ہے کہ آندھراپردیش کے تمام اضلاع میں بی آر ایس کے حق میں عوامی تائید کا سلسلہ جاری ہے۔ر