ریاستی جوائنٹ ڈائرکٹر موتی لال نائیک کا میدک دورہ اور متعلقہ عہدیداروں کی لاپرواہی پر برہمی
حیدرآباد ۔ 26 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : ضلع میدک میں روبہ عمل لائی جانے والی ’ کنٹی ویلگو ‘ ( آنکھوں کی روشنی ) اسکیم میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر پیش آئے بے قاعدگیوں کے واقعات کی محکمہ صحت و طبابت کے اعلیٰ عہدیداروں کی ہدایت پر ریاستی جوائنٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر موتی لال نائیک نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرس میدک پہونچکر تحقیقات کا آغاز کیا اور ان تحقیقات کے دوران کئی ماہ گزر جانے کے باوجود ’ یوسیز ‘
(Utilisation Certificates)
پیش نہ کئے جانے پر متعلقہ عہدیداروں پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفس کا دورہ کر کے مبینہ بے قاعدگیوں سے متعلق تفصیلات حاصل کیں ۔ باوثوق ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ ضلع میں کنٹی ویلگو اسکیم پر عمل آوری کے طریقہ کار ، ڈاکٹروں کی جانب سے مریضوں کی کی گئی جانچ سے متعلق مکمل تفصیلات ، تقسیم کی گئی عینکوں کے علاوہ حکومت کی جانب سے منظورہ عینکوں کے علاوہ دیگر تمام ریکارڈز کا تفصیلی جائزہ لیا ۔ بالخصوص کنٹی ویلگو اسکیم میں ڈاکٹروں کو ادا کردہ رقومات ، کیمپوں کے انعقاد کے لیے پیش آئے مصارف ، ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال کردہ گاڑیوں کی مکمل تفصیلات اور ان گاڑیوں کو ادا کی گئی رقومات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور بعض امور کے تعلق سے متعلقہ عہدیداروں سے استفسارات کر کے تفصیلات حاصل کیں ۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ جوائنٹ ڈائرکٹر ریاستی محکمہ صحت و طبابت ڈاکٹر موتی لال نائیک نے اپنی تحقیقات کے دوران ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفس میں پائے جانے والے اسٹور روم کا بھی تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے کنٹی ویلگو کے استفادہ کنندوں کو فراہم کی جانے والی عینکوں کو اسٹور روم میں رکھ کر تقسیم نہ کئے جانے پر متعلقہ عہدیداروں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر کے سخت برہمی بھی ظاہر کی ۔ تقسیم کی گئیں عینکوں کی مکمل تفصیلات آن لائن میں نہ رکھنے ( درج نہ کرنے ) کا بھی تحقیقاتی عہدیدار نے سخت نوٹ لیا اور اندرون ایک ہفتہ مکمل تفصیلات پر مشتمل رپورٹس انہیں پیش کرنے ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسرس کو ہدایات دیں ۔ اسی دوران ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفس ضلع میدک کے باوثوق ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی عہدیدار جوائنٹ ڈائرکٹر ریاستی محکمہ صحت و طبابت کی ہدایات پر تمام میڈیکل عہدیداروں میں ہلچل پیدا ہوگئی اور اپنی اپنی سطح پر مکمل طور پر تفصیلات اکھٹا کرنے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں ۔ بالخصوص بتایا جاتا ہے کہ ڈسٹرکٹ اڈیشنل میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر ڈاکٹر منوہر نے نگنور منڈل کے راج گوپال پیٹ پرائمری ہیلت سنٹر میں استفادہ کنندوں میں تقسیم کئے جانے والے عینکوں ، منڈل میں کنٹی ویلگو اسکیم کے انعقاد کے لیے پیش آئے جملہ مصارف کی تفصیلات سے متعلقہ میڈیکل آفیسرس کے ساتھ اجلاس طلب کر کے واقفیت حاصل کی ۔ علاوہ ازیں بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ اے این ایموں سے آن لائن تمام تفصیلات درج کروائی جارہی ہیں ۔ مزید بتایا جاتا ہے کہ ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر ڈاکٹر وجئے رانی نے بھی متعلقہ اسٹاف کے ساتھ اجلاس طلب کر کے کنٹی ویلگو کے انعقاد کے سلسلہ میں ضلع بھر میں پیش آئے اخراجات کی مکمل تفصیلات سے متعلق تمام فائیلس کا جائزہ لیا ۔ ڈاکٹر وجئے رانی ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر ضلع میدک کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ اندرون ایک ماہ مکمل تفصیلات پر مشتمل یوسیز (یوٹیلائیزیشن سرٹیفیکٹس ) پیش کرنے کی ضلع کے تمام پرائمری ہیلت سنٹرس کے متعلقہ میڈیکل آفیسرس کو ہدایات دی گئیں اور مقررہ مدت میں پیش نہ کرنے کی صورت میں ان کی تمام بلوں کو منسوخ کرنے کا بھی انتباہ دیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام تفصیلات کے حصول کے ساتھ ہی مکمل فائیل کو ڈسٹرکٹ کلکٹر کو پیش کی جائے گی ۔ اگر کوئی غلط رپورٹس پیش کرنے کی صورت میں ان عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا ڈی ایم اینڈ ایچ او نے سخت انتباہ دیا ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ کنٹی ویلگو اسکیم کی عمل آوری میں پیش آئیں مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا آغاز ہونے کے ساتھ ہی ضلع کے میڈیکل آفیسروں کو مشکل حالات سے دوچار ہونے کا خدشہ پایا جارہا ہے ۔۔