حکومت پر وعدہ کی تکمیل کے بجائے ڈرائیورس کو ہراساں کرنے کا الزام
حیدرآباد۔21جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں 12 سال سے آٹو کرایوں میں اضافہ نہیں کیاگیا اور نہ ہی آٹو ڈرائیورس کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کئے جا رہے ہیں۔جناب میر عنایت علی باقری نے انفارمل لیبر ورکرس فیڈریشن کی جانب سے اندرا پارک پر منعقدہ احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت آٹو ڈرائیورس سے کئے گئے وعدہ پر عمل آوری کے بجائے انہیں مزید ہراساں کرنے لگی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ شہر حیدرآباد میں طویل مدت کے بعد شہر حیدرآباد میں آٹو ڈرائیورس نے متحدہ طور پر بند میں حصہ لیتے ہوئے اسے کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔جناب میر عنایت علی باقری نے بتایا کہ آٹوڈرائیورس کے جو مطالبات ہیں وہ تمام جائز ہیں کیونکہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی سہولت کی فراہمی کے لئے کام کرنے والے شعبہ جات میں خدمات انجام دینے والوں کو سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے۔انہو ںنے بتایا کہ آٹوڈرائیورس کے بنیادی مطالبات میں ’’آٹو کرایوں‘‘ میں اضافہ ‘ بس اسٹینڈ کے قریب آٹو اسٹینڈ کے لئے جگہ کی فراہمی ‘ ہاسپٹل اور اسکولوں کے پاس آٹو پوائنٹس کا قیام ‘ اور فینانس پر حاصل کئے گئے آٹوز سے وصولی کے لئے کمیٹی کا قیام کے علاوہ ریاستی حکومت کی جانب سے آٹو ڈرائیورس کو 12 ہزار روپئے کی مالی امداد کی فراہمی کے سلسلہ میں کئے گئے اعلان پر عمل آوری ہے۔انہوں نے ریاستی حکومت ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر حکومت کی جانب سے ان مطالبات کو اندرون ایک ماہ پورا نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ میں آٹو ڈرائیورس یونین کی جانب سے غیر معینہ مدت کی آٹو ہڑتال شروع کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔آئی ایل ڈبلیو ایف کی جانب سے منائے گئے آٹو بند کو انہوں نے کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن مطالبات کے ساتھ شہر میں آٹو بند کیا گیا تھا ان میں ذیلی مطالبات میں ریپیڈو اور اولا کی خدمات کوبھی بند کرنے کا مطالبہ شامل ہے ۔ اندرا پارک پر منعقدہ آٹو ڈرائیورس کے احتجاجی مظاہرہ میں ہزاروں کی تعداد میں آٹو ڈرائیورس کی شرکت اور اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے کئے گئے احتجاج میں شامل ہونے پر جناب عنایت علی باقری نے تمام کا شکریہ ادا کیا۔3