ہوم آئسولیشن کے مریضوں کو زیادہ مشکلات ۔ ڈپازٹس ادا کرنے بھی پریشانیاں
حیدرآباد۔یکم۔مئی (سیاست نیوز) آکسیجن کے حصول میں ہونے والی مشکلات کو دور کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کا اعلان کیا جا رہاہے لیکن عملی اعتبار سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ان مریضوں کو جو گھریلو قرنطینہ کئے ہوئے ہیں وہ مکمل طور پر غیر سرکاری تنظیموں اور انحصار کئے ہوئے ہیں اور انہیں اگر آکسیجن سیلنڈر مل بھی جاتی ہے تو اس میں دوبارہ گیاس بھروانے کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآبادکے بیشتر تمام علاقوں میں شہریوں کو آکسیجن کی قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور گھریلو قرنطینہ اور علاج کے دوران جن لوگوں کو آکسیجن کی ضرورت محسوس ہورہی ہے ان لوگوں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے اور دواخانو ںمیں بھی آکسیجن نہ ہونے کے سبب مریضوں کو شریک کرنے سے انکار کیا جا رہاہے۔ ریاست تلنگانہ میں آکسیجن کی قلت کے سلسلہ میں ایجنسیوں کے ذمہ دارو ںنے بتایا کہ حکومت کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق دواخانوں کو آکسیجن کی سربراہی میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہئے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دواخانوں میں آکسیجن فراہم کی جائے لیکن جو لوگ گھروں میں علاج کروا رہے ہیں ان کے لئے آکسیجن کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہاہے اور جو لوگ غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں کے ذریعہ آکسیجن فراہم کر رہے ہیں ان پر بھی ان مریضوں کا انحصار ہے جس کے نتیجہ میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور بعض مریضوں کو شدید مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ وہ آکسیجن کیلئے درکار ڈپازٹ ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں اور جو لوگ آکسیجن فراہم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں ان میں بعض لوگوں کی جانب سے مریضوں سے ڈپازٹ حاصل کر تے ہوئے سیلنڈر فراہم کیا جا رہاہے جبکہ مریضوں کی یہ حالت نہیں ہے کہ وہ ڈپازٹ اداکرتے ہوئے سیلنڈر حاصل کرسکیں۔ مختلف تنظیموں اور ادارو ںکے ذمہ دارو ںکا کہناہے کہ شہر حیدرآباد میں اب آکسیجن سے زیادہ سیلنڈرس کی قلت ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور سیلنڈرس کی قلت کی بنیادی وجہ گھروں میں ذخیرہ کیا جانا ہے اور جو لوگ گھروں میں سیلنڈرس کا ذخیرہ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے بھی کئی مریضوں کو آکسیجن نہیں مل پا رہی ہے اسی لئے ایسے لوگ جن کے گھروں میں آکسیجن کی ضرورت نہیں ہے اور کوئی مریض نہیں ہے وہ اپنے گھروں میں آکسیجن سیلنڈرس کسی خدشہ کے تحت رکھتے ہوئے مصنوعی قلت پیدا کرنے کا سبب نہ بنیں ۔