راجیہ سبھا میں وزیر صحت کا بیان، آکسیجن کے مسئلہ پر 13 ریاستوں نے رپورٹ پیش کی
حیدرآباد۔11 ۔اگست (سیاست نیوز) ملک میں آکسیجن کی قلت سے اموات کی تردید کرنے والی مرکزی حکومت نے آخر کار تسلیم کیا ہے کہ آندھراپردیش میں آکسیجن کی کمی کے باعث بعض اموات واقع ہوئی ہے۔ مرکزی مملکتی وزیر صحت ڈاکٹر بھارتی پراوین پوار نے راجیہ سبھا میں تحریری جواب دیتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ آندھراپردیش حکومت نے آکسیجن کی کمی سے بعض اموات کی تصدیق کی ہے ۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں مرکز کو رپورٹ روانہ کی گئی ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چند ماہ قبل ایک خانگی ہاسپٹل میں آکسیجن کی کمی سے اچانک بحران پیدا ہوا اور بعض اموات واقع ہوئیں۔ آندھراپردیش حکومت کی رپورٹ کے بعد آکسیجن کی قلت سے اموات کو تسلیم کرنے والی پہلی ریاست بن چکی ہے۔ ملک کی دیگر ریاستوں میں آکسیجن کی قلت سے اموات واقع ہوئیں لیکن ریاستی حکومتوں کی جانب سے مرکز کو کوئی رپورٹ روانہ نہیں کی گئی ۔ حالیہ دنوں میں اس مسئلہ پر اپوزیشن کی تنقیدوں کے بعد مرکز نے رپورٹ طلب کی ہے ۔ راجیہ سبھامیں تلگو دیشم کے رکن رویندر کمار کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر مرکزی وزیر نے وضاحت کی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے پاس موجود رپورٹ کے مطابق کورونا کی دوسری لہر کے دوران آندھراپردیش کے تروپتی کے ایک ہاسپٹل میں بعض کورونا کے مریض فوت ہوئے۔ مرکزی وزیر نے بتایا کہ ہاسپٹل کو آکسیجن کی سربراہی میں تاخیر سے وینٹی لیٹر پر موجود بعض مریض فوت ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک 13 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کی جانب سے آکسیجن کی قلت سے متعلق اموات کی رپورٹ مرکز کو روانہ کی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے آکسیجن کی قلت سے چار اموات کی تصدیق کی ہے۔ واضح رہے کہ جاریہ سال اپریل اور مئی کے درمیان کورونا کی دوسری لہر عروج پر تھی اور کئی علاقوں میں آکسیجن کی قلت سے اموات کی اطلاعات ملی ہیں۔ تاہم ریاستی حکومتیں مرکز کو رپورٹ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
