آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے ماسکو جانے کا منصوبہ تیار کرلیا

   

Ferty9 Clinic

تہران ۔ 5 جنوری (ایجنسیز) ایران میں حکومت مخالف احتجاج بڑھنے اور امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرہ کے باعث سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے پلان بی تیار کرلیا۔ اس تناظر میں برطانوی میڈیا نے انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ بدترین صورت حال میں سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے ماسکو چلے جانے کا پلان بی تیار کر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر سیکیورٹی فورسز احتجاج پر قابو پانے میں ناکام ہوئیں یا وفاداری چھوڑ دی تو خامنہ ای اپنے قریبی حلقے، اہل خانہ اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای سمیت ایران چھوڑ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے انہوں نے تہران سے نکلنے کے ممکنہ راستوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور محفوظ انخلا کے لیے بیرونِ ملک جائیدادیں، اثاثہ اور نقد رقم بھی جمع کی جارہی ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خراب معیشت، مہنگائی، کرنسی کی قدر میں شدید کمی، امریکی پابندیاں، بدعنوانی اور بدانتظامی نے عوامی غصے کو ہوا دی ہے، ان حالات میں سیکوریٹی فورسز بھی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کی حمایت اور فوجی مداخلت کی دھمکی، جبکہ اسرائیلی حکام کے بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا اور شام کی مثالیں ایرانی قیادت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں، جہاں معاشی بدحالی نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کیا۔ ایسے میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا سخت بیانیہ اور مظاہرین کو شرپسند قرار دینا، حالات کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ ماہرین کی رائے میں حکومت کے پاس نہ تو بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کی کوئی واضح حکمتِ عملی ہے اور نہ ہی جوہری پروگرام پر ایسے سمجھوتے کے آثار نظر آ رہے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کو مطمئن کر سکے۔