ائمہ اور موذنین 4 ماہ کے اعزازیہ اور حج کمیٹی کے26 ملازمین 5 ماہ کی تنخواہ سے محروم

   

حیدرآباد۔/13 ستمبر، ( سیاست نیوز) اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کے بارے میں حکومت کی جانب سے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں۔ بی آر ایس حکومت نے اقلیتوں کی معاشی اور تعلیمی ترقی کیلئے بعض اسکیمات کا آغاز کیا تھا لیکن تعلیم سے متعلق اسکیمات تقریباً ٹھپ ہوچکی ہیں جبکہ معاشی ترقی کیلئے ایک لاکھ روپئے کی امدادی اسکیم چند دن قبل متعارف کی گئی۔ اقلیتی اداروں کی کارکردگی کے بارے میں بارہا لکھا گیا لیکن سدھار کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ حکومت نے مخصوص اداروں میں کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا اعلان کیا لیکن اقلیتی اداروں میں خدمات انجام دینے والے کنٹراکٹ اور آؤٹ سورسنگ ملازمین سے ناانصافی جاری ہے۔ ایک طرف تلنگانہ کے تقریباً 10 ہزار ائمہ اور موذنین گذشتہ چار ماہ سے ماہانہ اعزازیہ سے محروم ہیں تو دوسری طرف تلنگانہ حج کمیٹی کے 26 آؤٹ سورسنگ ملازمین 5 ماہ کی تنخواہ کا انتظار کررہے ہیں۔ حکومت نے آئمہ اور موذنین کی زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کا اعلان کیا لیکن منظورہ 10 ہزار ائمہ اور موذنین کو گذشتہ چار ماہ سے اعزازیہ جاری نہیں کیا گیا۔ عیدالاضحی کے موقع پر دو ماہ کے بقایا جات جاری کئے گئے تھے جس کے بعد سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ حکومت نے اعزازیہ کا بجٹ جاری کرنے کا اعلان کیا لیکن ائمہ اور موذنین کے بینک اکاؤنٹس میں اعزازیہ کی رقم جمع نہیں کی گئی۔ غریب ائمہ اور موذنین کو ماہانہ اعزازیہ گھریلو ضرورتوں کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اعزازیہ کیلئے ائمہ اور موذنین حج ہاوز کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح تلنگانہ حج کمیٹی کے 26 آؤٹ سورسنگ ملازمین کی خدمات میں ایک سال کی توسیع کے باوجود وہ پانچ ماہ کی تنخواہ سے محروم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ فینانس نے 21 جون 2023 کو 26 آؤٹ سورسنگ ملازمین کی خدمات میں یکم اپریل 2023 تا 31 مارچ 2024 ایک سال کی توسیع کیلئے جی او آر ٹی 1058 جاری کیا۔
سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود نے 27 جون 2023 کو جی او آر ٹی 72 کی اجرائی کے ذریعہ آؤٹ سورسنگ ملازمین کی خدمات میں توسیع کے احکامات جاری کئے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ فینانس نے 15 جولائی کو بجٹ ریلیز آرڈر 979 کے تحت حج کمیٹی کو 77.92 لاکھ روپئے جاری کئے۔ بی آر او کی اجرائی کے باوجود بجٹ حج کمیٹی کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں ہوا اور بجٹ کی کمی کا بہانہ بناتے ہوئے 26 آؤٹ سورسنگ ملازمین کو پانچ ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔ حج سیزن میں آؤٹ سورسنگ ملازمین نے دن رات کام کیا لیکن ان کی تنخواہوں سے کسی کو دلچسپی نہیں ہے۔ حج کمیٹی کے اعلیٰ عہدیدار بجٹ کی اجرائی کیلئے محکمہ فینانس سے موثر نمائندگی سے گریز کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پانچ ماہ سے تنخواہوں سے محروم آؤٹ سورسنگ ملازمین معاشی مسائل کا شکار ہیں اور گھریلو اخراجات کی تکمیل کیلئے قرض حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ بچوں کے تعلیمی اخراجات اور دیگر ضروری امور کی تکمیل میں غریب ملازمین کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حج کیمپ کے دوران عازمین حج کو غذا کی سربراہی اور ایر پورٹ منتقلی کیلئے بسوں کے استعمال کے مکمل بلز ابھی تک جاری نہیں کئے گئے۔