اب مریضوں کو دواخانہ میں شریک کروانے پر بھی کمیشن

   

خانگی دواخانوں کی نئی چال ۔ سنگین بحران میں بھی عوام کو لوٹنے کا سلسلہ جاری

محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔یکم۔اپریل۔ دواخانوں میں بستر نہیں ہیں اور لوگ پریشان ہیں ایسے میں شہر میں بعض خانگی دواخانوں کی جانب سے مریض لانے والوں کو 10فیصد کمیشن دیا جارہا ہے ۔ دونوں شہروں میں کورونا مریضوں کے علاج کیلئے سہولتوں کی فراہمی کے نام پر خانگی دواخانوں میں لوٹ کھسوٹ جا ری ہے ۔ جو لوگ مریضوں کی ہمدردی کرکے دواخانہ میں بستر دلوا رہے ہیں ان میں ایسی کالی بھیڑیں بھی ہیں جو دواخانہ میں بستر دلوانے کے بعد مریض کے جملہ بل سے 10 فیصد کمیشن حاصل کر رہی ہیں۔شہر کے بعض خانگی دواخانوں کے انتظامیہ نے سال گذشتہ بھی ایسی حرکتیں کی تھیں لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی جس کے سبب ان کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے اور دواخانوں میں سہولتوں کی عدم موجودگی کے باوجود وہ لاکھوں روپئے بل وصول کر رہے ہیں اور بلوں سے 10 فیصد کمیشن مریض کو شریک کروانے والوں کو ادا کیا جا رہاہے۔ پرانے شہر اور نئے شہر میں چند خانگی دواخانوں کا ایک ہی انتظامیہ ہے جو کہ شہر کے سرکردہ ڈاکٹرس کے ناموں کا استعمال کرکے بے تحاشہ بل بنا رہے ہیں اور ان بلوں کی ادائیگی کے لئے دباؤ ڈالا جا رہاہے اور ان دواخانو ںمیں مریضوں کو شریک کرنے والوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ وہ دراصل خدمت کر رہے ہیں لیکن ان دواخانوں میں بستر کی فراہمی یقینی بنانے والوں کی جانب سے مریض کے بل پر 10 فیصد کمیشن وصول کیا جا رہاہے۔ شہر میں چلائے جانے والے ایک دواخانہ میں بستروں کے موجود رہنے کے باوجود مریضوں کو اس لئے بستر فراہم نہیں کئے جا رہے ہیں کیونکہ ان بستروں کو دواخانہ کے ایجنٹ نے بک کروایا ہے اور مریض کے رشتہ دارو ںکو مشورہ دیا جا رہاہے کہ وہ ان سے رابطہ کریں اور ان کے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے دواخانہ میں بستر حاصل کرلیں اور وہ ایجنٹ مریض کو دواخانہ میں بستر فراہم کرکے اپنا 10 فیصد کمیشن حاصل کر رہا ہے دواخانوں کے انتظامیہ کی جانب سے چلائی جانے والی ان سرگرمیوں کے متعلق متعدد شکایات کے باوجود اب تک کوئی کاروائی نہ کئے جانے کی وجہ سے شہریوں میں برہمی پائی جانے لگی ہے۔