اتراکھنڈ سرحد کے قریب چین کی تعمیری سرگرمیاں

   

نیپال کے درہ تنکرلیپو سے 8 کیلومیٹر دور چینی چوکیوں کا قیام ، افواج کی حمل و نقل میں اضافہ

نئی دہلی: مشرقی لداخ میں سرحدی کشیدگی کے درمیان چین نے اب اتراکھنڈ کی سرحد کے قریب اپنی تعمیری سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ اس سرحد کے اس پار چین نے جھونپڑی نما چوکیاں قائم کرنا شروع کیا ہے۔ یہ علاقہ نیپال کے تنکرلیپوپاس سے 8 کیلو میٹر دور ہے۔ چین کی جانب جاری تعمیری سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ہندوستان نے چوکسی اختیار کرلی ہے۔ جو جو موضع کے عام علاقہ میں چین نے فوج جمع کرلی ہے۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے سپاہی نیپال سے لگ کر اتراکھنڈ کی سڑکوں کے قریب سرگرم دیکھے جارہے ہیں۔ ہندوستان اور چین کی سرحد پر کشیدگی میں اضافہ کے ساتھ ہی ہندوستانی انٹلیجنس نے قبل ازیں کہا تھا کہ نیپال حکومت نے بھی اپنی فوج کو ہدایت دی ہیکہ وہ اس علاقہ میں ہندوستانی فوج کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے۔ یہ علاقہ ہندوستان، نیپال اور چین کے درمیان سہ رخی جنکشن ہے۔ اتراکھنڈ میں وادی کالاپانی سب سے بلند مقام پر ہے۔ نیپال کی حکومت وزارت خارجی امور نے نیپالی مسلح فورس کو ہدایت جاری کئے تھے کہ وہ اس علاقہ کے عام مقامات پر ہندوستانی فوج کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ چین نے 150 لائیٹ کمائنڈ آرمس بریگیڈ تعینات کئے ہیں۔ لیپولیکھ علاقہ میں ہندوستان نے 17000 فیٹ تک روڈ تعمیر کی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان اور نیپال کے درمیان سفارتی تنازعہ پیدا ہوا۔ کھٹمنڈو کا دعویٰ ہیکہ یہ علاقہ اس کی ملکیت ہے۔ اس روڈ کی تعمیر سے کیلاش مانسرور جانے والے یاتریوں کیلئے وقت کی بچت ہوگی۔ ہندوستان اور چین کے درمیان گذشتہ چار مہینوں سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ سرحد پر غیرمعمولی صورتحال پائی جاتی ہے۔