اتراکھنڈ میں مسلم تاجرین کی دوکانات زبردستی بند کروائی گئی

   

پتھورگڑھ: یہاں کے تاجرین کی ایک مقامی کمیٹی نے دھارچولا علاقہ میں مسلم تاجرین کو ان کی دکانیں بند کرنے پر مجبور کردیا۔ دراصل اتراکھنڈ کی دوکمسن لڑکیوں سے مبینہ طور پر بریلی کے کچھ مسلمانوں نے چھیڑ خانی کی تھی جس کی خبر جنگل کی آگ کی طرح یو پی کے علاوہ اتراکھنڈ میں بھی پھیل گئی۔ دھارچولا ویاپار سنگھ نے 91 تاجرین کا لائسنس منسوخ کردیا جن میں اکثریت مسلم تاجرین کی تھی۔ گزشتہ تین دنوں سے ان تاجرین کو علاقہ میں اپنی اپنی دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایسے ’’باہر سے آنے والے‘‘ تاجرین کو یہاں سے نکال باہر کیا جائے لیکن کمیٹی کے اس مطالبہ کو دکانات کے اصل مالکان (لینڈ لارڈس) نے ماننے سے انکار کردیا۔ بریلی سے تعلق رکھنے والے جن دو تاجرین کو جاریہ سال فروری میں مبینہ طور پر لڑکیوں کے ساتھ نازیبا سلوک کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا ان پر تعزیرات ہند کی مختلف دفعات لاگو کی گئی ہیں جن میں پاکسو ایکٹ بھی شامل ہے۔ دھارچولا کے ایس ایچ او پرویز علی نے یہ بات بتائی۔ اسی دوران پتھور گڑھ کی خاتون ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رینا جوشی نے کہا کہ علاقہ میں کسی بھی نوعیت کی غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جن لوگوں نے دوکانداروں کو زبردستی اپنی دوکانات بند کرنے پر مجبور کیا ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔