اترپردیش اسمبلی الیکشن ، اسد اویسی اور مجلس کے لیے بڑا چیلنج

   

ووٹ کٹوا کے الزام کے باوجود کامیاب ریالیاں ، 8 برس بعد اترپردیش میں دوسرا تجربہ ، قومی سیاست میں حصہ داری کی مہم
حیدرآباد۔3۔ جنوری (سیاست نیوز) اترپردیش اسمبلی انتخابات اگرچہ کئی سیاسی جماعتوں کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکے ہیں، تاہم بعض علاقائی جماعتوں کے حق میں اترپردیش کی انتخابی سرزمین کسی چیلنج سے کم نہیں ہے ۔ حیدرآباد میں لوک سبھا کی ایک اور اسمبلی کی 7 نشستوں کے ساتھ طویل عرصہ سے اپنی سیاسی اجارہ داری قائم کرنے والی مجلس اتحاد المسلمین نے اترپردیش میں 100 نشستوں پر مقابلہ کا اعلان کیا ہے۔ ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست کے اسمبلی انتخابات بی جے پی ، سماج وادی پارٹی ، کانگریس اور دیگر جماعتوں کے لئے ایسڈ ٹسٹ کا موقف رکھتی ہیں جبکہ اسد الدین اویسی کے قومی سیاست میں داخلہ کی راہ میں یو پی کے نتائج فیصلہ کن موقف رہیں گے۔ تمام غیر بی جے پی جماعتیں مجلس کو ’’ووٹ کٹوا‘‘ کا لیبل لگاکر بی جے پی کو کامیاب کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کر رہی ہیں جبکہ اسد الدین اویسی اترپردیش میں ہنگامی طور پر انتخابی مہم کے ذریعہ ریاست کی سیاست میں کنگ میکر کے طور پر ابھرنا چاہتے ہیں۔ 52 سالہ اسد اویسی جو حال ہی میں ملک میں مسلمانوں کے ایک اہم قائد کے طور پر ابھرے ہیں، وہ اترپردیش کے کئی علاقوں میں ریالیوں سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو بڑی تعداد میں متوجہ کرنے میں کامیاب ہیں۔ اپنی تقریری صلاحیتوں کے لئے شہرت رکھنے والے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ انتخابی ریالیوں میں بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کو اپنے منفرد انداز میں نشانہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ امیت شاہ ، چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ اور سماج وادی قائد اکھلیش یادو کا دلچسپ ریمارکس کے ذریعہ جواب دیتے ہوئے عوام کی بھرپور داد حاصل کی ہے۔ دو دن قبل سہارنپور کی ریالی میں اویسی نے اترپردیش میں یوگی’’ راج ‘‘ کو تین علحدہ حروف میں تقسیم کرتے ہوئے اس کی تشریح کی ہے۔ ر سے رشوت ، الف سے اپرادھ اور ج سے جاتی واد کے ذریعہ یوگی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ وہ دراصل امیت شاہ کی جانب سے لفظ ’’نظام‘‘ کی تشریح کا جواب دے رہے تھے۔ امیت شاہ نے نظام لفظ میں شامل پانچ حروف سے پانچ مسلم قائدین کے نام جوڑ دیئے تھے جن کا تعلق سماج وادی، بی ایس پی اور کانگریس سے ہے۔ امیت شاہ نے دراصل لفظ نظام کا استعمال کرتے ہوئے اسد اویسی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جن کا تعلق حیدرآباد سے ہے جہاں آصف جاہی حکمرانوں کو نظام کہا جاتا ہے۔ اسد اویسی نے کہا کہ ’’ہم کسی کا قرضہ باقی نہیں رکھتے‘‘۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تعلیم یافتہ اور قانون داں کی حیثیت سے اسد اویسی ہندی بیلٹ میں اپنے طئے شدہ سامعین تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کا پیام واضح ہے کہ اترپردیش میں 19 فیصد مسلمان اپنی قیادت خود طئے کرسکتے ہیں اوراقتدار میں ان کی حصہ داری ہونی چاہئے تاکہ زندگی کے ہر شعبہ میں امتیازی سلوک سے بچ سکیں۔ یہ پہلا موقع نہیں جب مجلس اترپردیش میں اپنے سیاسی مستقبل کا ٹسٹ کر رہی ہے۔ 2017 ء میں مجلس نے اسمبلی کی 403 نشستوں کے منجملہ 38 پر مقابلہ کیا تھا لیکن ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوئی تھی۔ مجلس کے حق میں تقریباً 2 لاکھ ووٹ حاصل ہوئے اور چار امیدوار اپنی ضمانت بچانے میں کامیاب رہے۔ اسد اویسی کا ماننا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں میں مجلس اترپردیش میں مضبوط ہوئی ہے۔ لہذا انہیں بڑی کامیابی کا یقین ہے۔ مجلس نے ابتداء میں بی جے پی سے انحراف کرنے والی باغی حلیف پارٹی بھارتیہ سماج پارٹی کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر سے مفاہمت کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے سماج وادی پارٹی سے اتحاد کرلیا۔ مجلسی قائدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی پارٹی سے اتحاد نہ ہونے کے باوجود وہ تنہا مقابلہ کے ذریعہ بہتر مظاہرے کے موقف ہے۔ 2021 ء کا سال مجلس کے لئے اچھا نہیں رہا کیونکہ پارٹی نے توسیعی منصوبہ کے تحت مغربی بنگال اور ٹاملناڈو میں مقابلہ کیا تھا لیکن کامیابی نہیں ملی۔ مغربی بنگال میں انڈین سیکولر فرنٹ سے مفاہمت میں ناکامی کے بعد مجلس نے 7 نشستوں پر مقابلہ کیا تھا جبکہ ٹاملناڈو میں دیناکرن کی زیر قیادت اے ایم ایم کے پارٹی سے مفاہمت کے ذریعہ تین نشستوں پر مقابلہ کیا گیا لیکن دونوں ریاستوں میں کوئی کامیابی نہیں ملی ۔ قائدین کا کہنا ہے کہ بعض ریاستوں میں شکست کے باوجود ہم نے تنظیمی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کی مساعی کی ہے۔ پارٹی کے استحکام کیلئے کمیوں اور خامیوں کو دور کیا گیا ۔ 2015 ء میں مجلس نے بہار اسمبلی کی 6 نشستوں پر سیمانچل علاقہ میں مقابلہ کیا تھا جو قابل لحاظ مسلم آبادی کا علاقہ ہے لیکن تمام 6 نشستوں پر شکست ہوئی تھی اور صرف ایک امیدوار کی ضمانت بچ سکی۔ پانچ سال بعد مجلس نے 2020 ء اسمبلی انتخابات میں 20 نشستوں پر مقابلہ کرتے ہوئے پانچ پر کامیابی حاصل کی ۔ تلنگانہ کے بعد سب سے زیادہ نشستوں والی ریاست بہار ہے۔ جھارکھنڈ میں مجلس نے 16 نشستوں پر مقابلہ کیا تھا لیکن کسی پر کامیابی نہیں ملی ۔ 2013 ء تک مجلس روایتی طور پر حیدرآباد تک محدود رہی اور تلنگانہ ، رائلسیما ، مہاراشٹرا اور کرناٹک کے بعض علاقوں مجالس مقا می میں مجلس کی نمائندگی رہی۔ 2014 ء میں مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے پارٹی نے سنجیدہ طور پر توسیع کی کوشش کی ۔ 24 امیدوار میدان میں اتارے گئے جن میں دو نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ کانگریس اور دیگر غیر بی جے پی جماعتوں نے مجلس پر سیکولر ووٹ تقسیم کرتے ہوئے بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کا الزام عائد کیا لیکن اویسی الزامات سے متاثر نہیں ہوئے ۔ انہوں نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دیگر جماعتوں سے سوال کیا کہ انہوں نے مسلمانوں کی تائید کے عوض ان کی بھلائی کے لئے کیا اقدامات کئے۔ حیدرآباد لوک سبھا نشست پر 35 برس تک قبضہ کے بعد مجلس کو مہاراشٹرا اورنگ آباد لوک سبھا نشست پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ 1928 ء میں قائم کردہ مجلس اتحادالمسلمین پر 1948 ء میں انضمام حیدرآباد کے بعد پابندی عائد کردی تھی اور 1958 ء میں اسد اویسی کے دادا مولانا عبدالواحد اویسی نے نئے دستور کے ساتھ احیاء عمل میں لایا ۔ مجلس ہندوستان کی واحد جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے جس نے کئی تعلیمی ادارے قائم کئے جن میں میڈیکل ، انجنیئرنگ کالجس اور ہاسپٹلس شامل ہیں۔ ر