۔22سالہ دلت لڑکی کو کالج سے واپسی پر اغوا کیا گیا تھا ۔ دو ملزمین گرفتار ۔ مہنت کی طرف سے 6لاکھ روپئے کی مالی اعانت
بلرام پور ( یو پی ) : اترپردیش کے ضلع بلرام پور میں دو افراد کی جانب سے مبینہ طور پر عصمت ریزی کی شکار 22سالہ دلت عورت بھی فوت ہوگئی ۔ یہ موت ریاست کے علاقہ ہاتھرس سے تعلق رکھنے والی ایک اور گینگ ریپ کی شکار جوان لڑکی کی موت پر ملک گیر غم و غصہ کے درمیان پیش آئی ہے ۔ پولیس نے کہا کہ بلرام پور واقعہ کے دونوں ملزمین گرفتار کرلئے گئے ۔ چہارشنبہ کی رات بلرام پور میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے متوفیہ کی ماں نے دعویٰ کیا کہ ریپ کرنے والوں نے اُس کی بیٹی کے پیر اور پیٹھ توڑ دیئے ۔ تاہم ، پولیس نے اس الزام کی تردید کی ہے ۔ متوفیہ کی ماں نے کہا کہ میری بیٹی منگل کو ایک کالج میں داخلہ لینے گئی تھی ۔ جب وہ واپس ہورہی تھی ، تین چار افراد نے اس کا اغوا کیا اور اُسے اپنے روم لے گئے ، اُسے انجکشن دیا اور اُس کا ریپ کیا ۔ بعد میں انہوں نے اُسے ایک ای رکشہ میں ڈال دیا جس کے ڈرائیور نے اُس کی بیٹی کو ان کے مکان کے باہر پھینک دیا ۔ تب میں نے اپنی بیٹی کے پیروں اور پیٹھ کو شدید زخمی حالت میں پایا ، وہ نہ ٹھہر سکتی تھی اور نہ چل سکتی تھی ۔ متوفیہ کے ارکان خاندان کے حوالے سے بلرام پور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیو رنجن ورما نے کہا کہ متوفیہ جو خانگی کمپنی میں کام کرتی تھی ، منگل کو سنگین حالت میں گھر واپس ہوئی ، اُس پر غشی طاری تھی ۔ اُسے فوری قریبی ہاسپٹل رجوع کیا گیا لیکن وہ راستہ میں فوت ہوگئی ۔
جب یہ معاملہ ہاسپٹل کی جانب سے پولیس سے رجوع کیا گیا تب والدین نے الزام عائد کیا کہ اُن کی بیٹی کا گینگ ریپ ہوا ہے ۔ والدین کی شکایت پر پولیس نے دونوں ملزمین شاہد اور ساحل کو گرفتار کرلیا ۔ پیر اور پیٹھ ٹوٹے ہونے سے متعلق رپورٹس پر ایس پی نے کہا کہ پوسٹ مارٹم میں اس کی تصدیق نہیں ہوئی اس لئے ہم اس خبر کی تردید کرتے ہیں ۔ متوفیہ کی آخری رسومات اُس کی فیملی کی موجودگی میں پوسٹ مارٹم کے بعد چہارشنبہ کو ادا کردی گئی ۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس پی کے ہمراہ مقامی مندر کے مہنت متھلیش ناتھ یوگی جمعرات کی صبح متوفیہ کے مکان گئے ۔ انہوں نے فیملی ممبرس سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں پرسہ دیا ۔ فیملی کو یقین دلایا گیا کہ ملزمین کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی ۔ مہنت کی جانب سے 6,18,450روپئے کی مالی اعانت کی منظوری کا خط فیملی کے حوالے کیا گیا ۔ یہ رقم متوفیہ کے ماں کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرادی جائے گی ۔ دریں اثناء ماں نے 25 لاکھ روپئے کے معاوضہ اور اس کے بیٹے کیلئے سرکاری نوکری کا مطالبہ کیا ہے ۔ اُس نے کہا کہ میری بیٹی وکیل بننا چاہتی تھی لیکن اُسے موت کے منہ میں ڈھکیل دیا گیا ۔ یہی حشر خاطیوں کا ہونا چاہیئے ۔ ہمیں انصاف چاہیئے ۔ میرے بیٹے کو گورنمنٹ جاب دیا جانا چاہیئے اور ہمیں بطور معاوضہ کم از کم 25لاکھ روپئے ملنا چاہیئے ۔ اس واقعہ پر ردعمل میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے گذشتہ شب اپنے ٹوئیٹر ہینڈل پر تحریر کیا کہ ہاتھرس کے بعد اب ایک اور بیٹی کو ہراساں کیا گیا اور بلرام پور میں اُس کا گینگ ریپ ہوا ۔ ریپ کی شکار سنگین حالت میں فوت ہوگئی ۔