نینی تال : اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے لوک آیکت کی تقرری اور لوک آیوکت انسٹی ٹیوٹ پر ہونے والے بے ترتیب اخراجات سے متعلق دائر ایک پی آئی ایل کی سماعت کرتے ہوئے جمعہ کو حکومت سے پوچھا کہ لوک آیکت کی تقرری ابھی تک کیوں نہیں کی گئی ہے ۔حکومت کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ لوک آیوکت کے ادارے پر کتنا خرچ ہوا ہے ۔ عدالت نے سال وار بنیادوں پر حساب جمع کرانے کو کہا ہے ۔ چیف جسٹس وپن سانگھی اور جسٹس آلوک کمار ورما کی ڈبل بنچ میں ہلدوانی گالاپار کے رہنے والے روی شنکر جوشی کی طرف سے دائر ایک پی آئی ایل پر سماعت ہوئی۔عرضی گزار کی جانب سے کہا گیا کہ ریاست میں ابھی تک لوک آیوکت کی تقرری نہیں ہوئی ہے ۔ لوک آیوکت ادارے کے نام پر ہر سال دو سے تین کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ لوک آیوکت کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں بدعنوانی کے خلاف اہم ہتھیار ثابت ہوا ہے ۔