دونوں ریاستوں کے اعلی عہدیداران کی ملاقات ۔ باہمی امور پر تبادلہ خیال
حیدرآباد 29 جون ( پی ٹی آئی ) تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو اور ان کے آندھرائی ہم منصب وائی ایس جگن موہن ریڈی کی جانب سے دونوں ریاستوں کے مابین تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کے فیصلے کے ایک دن بعد دونوں ریاستوں کے کچھ سینئر عہدیداروں نے آج اثاثہ جات کی تقسیم کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا ۔ یہ اثاثہ جات دونوںریاستوں کے مابین تقسیم ریاست کی وجہ سے ہونے والے ہیں۔ ایک سرکاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شیڈول 9 اور 10 کے ادارہ جات کے تعلق سے بات چیت جاری ہے ۔ آندھرا پردیش بھون کی جائیداد کی تقسیم اور دیگر جائیدادوں کی تقسیم پر بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ عہدیداروں نے جمعہ کو ہوئی ملاقات میں دونوں چیف منسٹروں کی جانب سے دی گئی تجاویز پر تفصیلی تبادلہ حیال کیا ۔ اے پی تنظیم جدید قانون کے شیڈول 9 اور 10 میں جن جائیدادوں کی تقسیم کی گنجائش فراہم کی گئی تھی ان پر اور اے پی بھون دہلی اور دیگر اثاثہ جات کی تقسیم دونوں ریاستوں کے مابین اختلافات کی وجہ بنی ہوئی ہے ۔ اجلاس میں تلنگانہ کے چیف سکریٹری ایس کے جوشی اور ان کے آندھرائی ہم منصب ایل وی سبرامنیم ‘ اے پی حکومت کے مشیر اجئے کلم اور تلنگانہ حکومت کے مشیر راجیو شرما شامل ہیں۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش نے جمعہ کو منعقدہ اجلاس میں اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ دونوں ریاستوں کو جو مسائل درپیش ہیں ان کو بات چیت کے ذریعہ قابل قبول انداز میں حل کرلیا جائیگا ۔ دونوں ریاستوں کے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ابتدائی رپورٹ 15 جولائی تک تیار کرلیں کہ کس طرح سے دونوں ریاستوں کی دریاوں میں دستیاب پانی کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ آندھرا پردیش کے وزیر فینانس بی راجیندر ناتھ ریڈی نے کل کہا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ دونوں ریاستیں تنظیم جدید قانون کے تحت قائم ہوئی ہیں۔ جب ایک ریاست کو دو میں بانٹا جاتا ہے تو کچھ مسائل ہوتے ہیں۔ آج ان مسائل پر غور کیا گیا تاکہ انہیں تنظیم جدید آندھرا پردیش قانون کے تحت حل کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ دونوں ریاستوں نے اس بات پر بھی غور کیا کہ یہ دونوں کس طرح سے پانی کی تقسیم عمل میں لا سکتے ہیں۔
