54 فیصد ریڈرشپ کا ریکارڈ، آسٹریلیا 44 فیصد اور جرمنی 30 فیصد کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر، الیکٹرانک میڈیا کے دور میں پرنٹ کی اہمیت برقرار
حیدرآباد۔ 22 فروری (سیاست نیوز) انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں جبکہ الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا نے غیر معمولی ترقی کرلی ہے باوجود اس کے پرنٹ میڈیا کی علیحدہ شناخت برقرار ہے۔ دنیا بھر میں یوں تو تمام زبانوں کے اخبارات کا سرکولیشن کوویڈ کی صورتحال کے بعد متاثر ہوا ہے باوجود اس کے اخبارات پڑھنے کے رجحان میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ عالمی سطح پر کئے گئے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اخبارات کی ریڈر شپ کے معاملہ میں ہندوستان سرفہرست ہے۔ ملک کے 50 ممالک میں اپریل 2021 تا مارچ 2022 سروے کا اہتمام کیا گیا جس میں 18 سے 64 سال عمر کے افراد سے معلومات حاصل کی گئیں کہ الیکٹرانک میڈیا کے اس دور میں وہ اخبارات کو کس حد تک اہمیت دیتے ہیں؟ ہر ملک میں 2000 تا 7600 افراد سے مختلف سوالات کرتے ہوئے سروے کے نتائج اخذ کئے گئے۔ سروے میں شہری علاقوں کے 54 فیصد ہندوستانی عوام آج بھی اخبارات پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور دنیا بھر کی خبریں جاننے کے لئے ان کی اولین ترجیح پرنٹ میڈیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ اور فرانس جیسے ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ اخبارات کی ریڈر شپ ہندوستان میں ہے۔ پرنٹ میڈیا کی ریڈر شپ کے اعتبار سے آسٹریلیا 44 فیصد کے ساتھ دوسرے اور جرمنی 30 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ ہندوستان میں مختلف زبانوں کے اخبارات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دوسرے نمبر پر موجود آسٹریلیا سے ہندوستان تقریباً 10 فیصد ریڈر شپ میں آگے ہے۔ ساؤتھ آفریقہ میں 28 فیصد، فرانس 25 فیصد، امریکہ 20 فیصد، چین 17 فیصد اور برازیل میں 13 فیصد ریڈرشپ ریکارڈ کی گئی۔ یوروپی ممالک میں آسٹریلیا پرنٹ میڈیا کی ریڈرشپ کے اعتبار سے سرفہرست ہے۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت کی برقراری کی اہم وجہ الیکٹرانک میڈیا میں غیر صحتمندانہ مسابقت ہے۔ عوام تک مصدقہ خبروں اور اطلاعات کو پہنچانے کی بجائے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے ادارے سنسنی خیز خبروں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں زیادہ تر خبریں مفروضات پر مبنی ہوتی ہیں جس کے نتیجہ میں عوام مصدقہ اور سچی خبروں کے لئے پرنٹ میڈیا پر بھروسہ کررہے ہیں۔ ہندوستان میں الیکٹرانک میڈیا چیانلس میں روز افزوں اضافے کے باوجود پرنٹ میڈیا نے اپنی علیحدہ شناخت کو برقرار رکھا ہے۔ 1