چیف منسٹر کا تاریخی فیصلہ، ایتھکس انڈیا سوسائٹی نمائندوں کی ونود کمار سے ملاقات
حیدرآباد۔ 3 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ پلاننگ بورڈ کے نائب صدرنشین بی ونود کمار نے کہا کہ اخلاقی اقدار کو نصاب تعلیم میں شامل کرنے کا چیف منسٹر نے تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ سماج میں بڑھتی برائیوں اور جرائم کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے اخلاقی اقدار کے فروغ کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ملک بھر میں چیف منسٹر کے فیصلے کا خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ مشن ایتھکس انڈیا سوسائٹی کے نمائندوں نے آج ونود کمار سے ملاقات کی اور نصاب تعلیم میں اخلاقی اقدار کی شمولیت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کا یہ فیصلہ تلنگانہ عوام کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔ اخلاقی اقدار کی کمی کے نتیجہ میں بچوں اور خواتین پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوگیا جو باعث تشویش ہے۔ چیف منسٹر کے فیصلے سے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور مستقبل کے ذمہ دار شہری تیار کئے جاسکتے ہیں۔ سوسائٹی کے وفد نے کہا کہ شہنشاہ اشوک نے شجرکاری اور تالابوں کی تعمیر کے کام انجام دیئے تھے اسی طرز پر کے سی آر نے ہریتاہارم اور مشن کاکتیہ جیسے پروگراموں کا آغاز کیا ہے جو ملک کے لیے مثالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے فیصلے سے سماج پر مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ بی ونود کمار نے کہا کہ جرائم میں اضافے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے کے سی آر نے منفرد منصوبہ بندی کی ہے جس کے تحت نصاب تعلیم میں اخلاقیات لازمی مضمون کے طور پر شامل رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں ترقی اور اصلاحات کے معاملے میں کے سی آر کے اقدامات شہنشاہ اشوک کے مماثل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نصاب تعلیم میں جنرل سائنس، سوشل کی طرح ایسے مضامین کی شمولیت ضروری ہے جو سماج کو تبدیلی کی سمت گامزن کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنس کو ماحولیات سے جوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں میں ماحولیاتی تحفظ کا جذبہ پیدا کیا جاسکے۔ ایل کے جی سے پانچویں جماعت تک کے بچوں میں اچھائی اور برائی کے بارے میں تمیز پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیف منسٹر کے فیصلے کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے، بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم میں کمی آئے گی۔ سوسائٹی کے سکریٹری پرتاپ ملاڈی اور دوسرے موجود تھے۔