نئی دہلی: ٹاملناڈو کے نائب وزیر اعلی ادھیانیدھی اسٹالن کو سناتن دھرم تنازعہ کیس میں سپریم کورٹ سے راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ عدالت کی اجازت کے بغیر ادھیاندھی کے خلاف مزید کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ ادھیاندھی کی ایک درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس میں سناتن دھرم پر ان کے متنازعہ ریمارکس پر کئی ریاستوں میں ان کے خلاف درج مجرمانہ مقدمات کو یکجا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ادھیاندھی ایک فلمی اداکار ہیں اور ٹاملناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن کے بیٹے ہیں۔چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار کی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ سی جے آئی نے کہا کہ ایک ہی معاملے میں مزید شکایات درج نہیں کی جانی چاہئے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا مہاراشٹرا حکومت کی طرف سے پیش ہوئے جبکہ سینئر ایڈوکیٹ اے ایم سنگھوی اور پی ولسن نے ادھیاندھی کی نمائندگی کی۔
سماعت کے دوران سنگھوی نے دلیل دی کہ پچھلی سماعت میں عدالت نے اشارہ دیا تھا کہ ایف آئی آر کو ایک ساتھ جوڑ کر کرناٹک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بنچ کے سامنے یہ حقیقت رکھی کہ ارنب گوسوامی، محمد زبیر اور نوپور شرما کے الفاظ انتہائی ناگوار تھے لیکن معزز جج نے تمام مقدمات کو پہلی جگہ (ایف آئی آر کا اندراج) منتقل کر دیا۔ اس معاملے میں یہی حل ہے۔مہتا نے کہا کہ ادھیاندھی کا بیان سناتن دھرم کو ختم کرنے کے بارے میں تھا۔ سی جے آئی نے مہتا سے کہا کہ عدالت کیس کے میرٹ میں نہیں جا رہی ہے۔ ادھیاندھی کے وکیل نے بھی مہتا کے دلائل کی مخالفت کی۔ادھیاندھی اسٹالن کے وکیل کی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے مہتا نے کہا کہ جو کچھ بتایا جا رہا ہے اس پر وہ شرمندہ کیوں ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ کچھ چیزوں سے نمٹنا نہیں ہے انہیں مچھر، کورونا، ڈینگو وغیرہ کو ختم کرنا جیسا ہے۔