غیر منظورہ لے آؤٹس کو تعمیرات کی اجازت نہیں، عنقریب وسیع پیمانے پر کارروائی
حیدرآباد۔23جنوری(سیاست نیوز) اراضیات اور جائیدادو ںکی خریداری کرنے والے چوکنا ہوجائیں اور غیر منظورہ لے آؤٹس میں خریدی جانے والی اراضیات پر تعمیری اجازت نامہ نہیں دیا جائے گا اور اگر کوئی تعمیرات مکمل کرلی جاتی ہیں تو انہیں بھی منہدم کردیا جائے گا۔ حکومت تلنگانہ کے سخت اقدامات اور ہدایات کے بعد حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں کی جانے والی انہدامی کاروائیاں جلد ہی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں بھی شروع کی جائیں گی۔ گذشتہ ہفتہ کے دوران ایچ ایم ڈی اے کے حدود میں کی جانے والی کاروائیوں کے سلسلہ میں محکمہ بلدی نظم ونسق کے عہدیداروں نے بتایا کہ شہر حیدرآباد اور اطراف و اکناف کے علاقوں میں اراضیات کی بڑھتی قیمتوں اور جائیدادوں کی اہمیت میں ہورہے اضافہ کے ساتھ ساتھ تعمیری سرگرمیوں کو دیکھنے کے بعد اس با ت کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ بغیر اجازت کی جانے والی تعمیرات کے علاوہ غیر منظورہ لے آؤٹس میں کی جانے والی تعمیرات کے خلاف عدالتی احکامات کے مطابق کاروائی کی جائے ۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کے متعلق عہدیداروں نے تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میڑچل ‘ گھٹکیسر‘ شنکرپلی ‘ شمس آباد زون میں اب تک ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے66 غیر مجاز عمارتوں کو منہدم کیا گیا ہے اور 16 عمارتوں کو مہر بند کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔پرنسپل سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق مسٹراروند کمار نے ایچ ایم ڈی اے کے حدود میں کی جانے والی کاروائیوں کے طرز پر جی ایچ ایم سی کے حدود میں بھی بڑے پیمانے پر کاروائیوں کے آغاز کی ہدایت دیتے ہوئے عہدیدارو ںکو مشورہ دیا کہ وہ غیر مجاز لے آؤٹس میں کی جانے والی تعمیر ات کو روکنے کے علاوہ غیر منظورہ لے آؤٹس کے خلاف سخت کاروائیوں کو یقینی بنائے ۔ م