کے ٹی آر اور ملا ریڈی بھی ملوث، رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے انڈومنٹ اراضی پر ناجائز قبضوں کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور الزام عائد کیا کہ اس معاملہ میں کے ٹی آر کے بشمول کئی ریاستی وزراء ملوث ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ دیورا یمجال میں انڈومنٹ کی اراضی پر ناجائز قبضہ کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے تحقیقات کیلئے آئی اے ایس عہدیداروں کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے نشانہ پر صرف سابق وزیر ای راجندر ہیں جبکہ اس معاملہ کی سی بی آئی تحقیقات کی صورت میں کے ٹی آر اور دیگر کئی افراد بے نقاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیورا یمجال میں چیف منسٹر کے فرزند کے ٹی راما راؤ اور برسراقتدار پارٹی کے اخبار کے صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر ڈی دامودر راؤ، ریاستی وزیر لیبر ملا ریڈی کے علاوہ برسراقتدار پارٹی سے تعلق رکھنے والے کئی قائدین کی اراضیات موجود ہیں۔ اراضیات کے سروے نمبرات تنازعہ کا شکار ہیں۔ یہ ساری اراضی سیتا رام سوامی مندر کی بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹی آر ایس قائدین نے اراضی پر بینکوں سے بھاری قرض حاصل کرلیا ہے لیکن ریاستی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ انہوں نے کہا کہ دھرانی پورٹل پر اس اراضی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے جو حکومت کی ملی بھگت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈومنٹ کی اراضی کو ذاتی اراضی قرار دیتے ہوئے بینکوں کو دھوکہ دیا گیا لہذا اس معاملہ کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ انڈومنٹ اراضی کے قابضین کی تمام تفصیلات بہت جلد عوام کے درمیان جاری کریں گے۔ ریونت ریڈی اس معاملہ میں سی بی آئی تحقیقات کیلئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو مکتوب روانہ کررہے ہیں جس میں دستاویزی ثبوت بھی پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا صورتحال کے باعث وہ نئی دہلی کا دورہ کرنے سے قاصر ہیں لہذا یادداشت تو روانہ کردیں گے جبکہ حیدرآباد میں مملکتی وزیر داخلہ کشن ریڈی سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے اراضی کی خریداری سے متعلق کے ٹی آر کے دستاویزات کو میڈیا کے روبرو پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ انڈومنٹ کی 1531 ایکر اراضی جو مندر کی ہے اس پر ٹی آر ایس قائدین نے قبضہ کرلیا ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے 2009 میں یہ اراضی خریدی تھی۔ اسی طرح ریاستی وزیر ملا ریڈی نے 7 ایکر اراضی پر فارم ہاوز تعمیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف راجندر کو نشانہ بنارہی ہے جبکہ ریاستی وزراء اور ٹی آر ایس قائدین کو بچانے کی کوشش ہے۔