اراضیات کی فروخت سے 20 ہزار کروڑ کے حصول کا نشانہ

   

کورونا بحران سے آمدنی گھٹ گئی، قرضوں میں اضافہ ، تاحال 5 ہزار کروڑ کا قرض حاصل کیا گیا
حیدرآباد : تلنگانہ حکومت ریاست میں اراضیات کو فروخت کرکے 20 ہزار کروڑ روپئے آمدنی حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ اس کے لئے عہدیداروں کو متحرک کردیا گیا ہے ۔ کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے ریاست میں نائیٹ کرفیو اور پھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے حکومت کی آمدنی بڑی حد تک گھٹ گئی ہے ۔18 دن تک ریاست میں زرعی و غیر زرعی جائیدادوں کا رجسٹریشن مفلوج ہوکر رہ گیا تھا ۔ حکومت مختلف ذرائع سے آمدنی بڑھانے کا جائزہ لے رہی ہے ۔ بالخصوص اراضیات کو فروخت کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے ۔ گزشتہ سال ہی حکومت نے اراضیات کو فروخت کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا جس کیلئے حکومت نے کوکا پیٹ اراضیات کی نشاندہی کی تھی ۔ ہراج کا عہدیداروں کی جانب سے منصوبہ تیار کیا گیا تھا ۔ سال کے بجٹ 2021-22 ء کے بجٹ میں نان ٹیکس ریوینو کے ذریعہ 30,557 کروڑ کی آمدنی کا اندازہ لگایا گیا ۔ ۔ حکومت نے اراضیات فروخت کر کے 20 ہزار کروڑ روپئے آمدنی حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کردی ہے ۔ حکومت نے بجٹ میں اس سال مرکز سے 38 ہزار کروڑ روپئے گرانٹ ان ایڈ ملنے کی توقع کا اظہار کیا ہے ۔ گزشتہ سال کورونا کی وجہ سے جہاں آمدنی گھٹی ہے ، وہیں ریاست پر قرض کا بوجھ بڑھا ہے ۔ جاریہ سال بھی دوبارہ قرضوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے ۔ گزشتہ سال 47,500 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا تھا ۔ وزیر فینانس ہریش راؤ نے زیادہ قرض حاصل کرنے ایف آر بی ایم کی حد کو 3 فیصد سے بڑھاکر 5 فیصد کرنے کا مرکز سے مطالبہ کیا ۔ ریاستی حکومت آج مزید ایک ہزار کروڑ روپئے قرض حاصل کر رہی ہے ۔ اس طرح جاریہ مالیاتی سال تاحال 5 ہزار کروڑ روپئے کا قرص حاصل کیا گیا ہے ۔