انقرہ: ترک وزیرخزانہ بیرات البیرق کے استعفیٰ کے 24 گھنٹے بعد ترکی میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کے رہنما نے ترک صدر رجب طیب اردغان اور ان کی انتظامیہ پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہیکہ اردغان ملک کو ایسے چلا رہے ہیں جیسے یہ ان کی کوئی ذاتی اور خاندانی کمپنی ہے۔ ’’ریپبلکن پیپلز‘‘ پارٹی کے رہنما کمال کلیچدار اولو پیر کو انقرہ میں ایک تقریر کے دوران کہا کہ اردغان ملک کو ایسے چلارہے ہیں جیسے یہ ان کی خاندانی کمپنی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کا مرکزی بنک اپنی آزادی کھو بیٹھا ہے۔وزیر خزانہ اور اردغان کے داماد کے استعفے پر تبصرہ کرتے ہوئے انسٹاگرام پر جاری ایک بیان کے ذریعہ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب مثال ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت غیر مسبوق بحران کا سامنا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی میں کسی بھی بڑے ذرائع ابلاغ نے مستعفی ہونے کی شرمناک خبر 24 گھنٹے تک شائع نہیں کی۔ ادھر ترکی میں حزب اختلاف کی ڈیموکریٹک اینڈ پروگریسیو پارٹی کے رہنما علی بابا جان نے تصدیق کی کہ بیرات البیرق کا استعفیٰ اردغان حکومت کے دیوالیہ پن کے اعلان کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل جو ہوا وہ استعفے کا بیان نہیں بلکہ دیوالیہ پن کا بیان ہے۔