استنبول ۔4 جون (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کے صدر رجب طیب اردغان اور ان کی حلیف دائیں بازو کی جماعت نیشنل موومنٹ کے سربراہ دولت بہجلی ابھی تک کچھ عرصہ قبل تشکیل پانے والی دو سیاسی جماعتوں کو آئندہ ہونے والے کسی بھی انتخابات میں شریک ہونے سے روکنے کے لیے سرگرم ہیں۔ تاہم یہ دونوں شخصیات اب تک اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے ارکان پارلیمنٹ آنے والے وقت میں مذکورہ دونوں جماعتوں میں شمولیت اختیار کریں گے۔ ان ارکان میں ایردوغان کی حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے درجنوں ارکان شامل ہیں۔اس سلسلے میں ترکی کے ایک سابق وزیر اور اپوزیشن کی ریپبلکن پیپلز پارٹی کے رکن یاشار اوکویان نے کہا ہے کہ ایردوغان کی حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے متعدد ارکان پارلیمنٹ پارٹی کے اندر موجودہ صورت حال سے ناخوش ہیں۔ اسی وجہ سے وہ سابق وزیراعظم علی باباجان کے زیر قیادت ڈیموکریسی اینڈ پروگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔ باباجان نے حکم راں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی سے مستعفی ہونے کے کئی ماہ بعد رواں سال 11 مارچ کو اپنی نئی جماعت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔باباجان سے قبل سابق وزیراعظم احمد داؤد اولو بھی حکمراں جماعت سے مستعفی ہونے کے کئی ماہ بعد ایک نئی جماعت کی تاسیس کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس جماعت کو انہوں نے فیوچر پارٹی کا نام دیا ہے۔ترکی کے محنت اور سماجی امور کے سابق وزیر یاشار اوکویان نے کہا کہ داؤد اولو اور علی باباجان ایردوغان کی جماعت کی مقبولیت کم کرنے میں بڑا کردار ادا کریں گے۔ دونوں شخصیات ہی ایردوآن کی جماعت کی تاسیس کے وقت سے شامل تھے اور دونوں نے ہی اہم منصبوں پر اپنی ذمے داریاں انجام دیں۔ ان میں وزیراعظم، نائب صدر، وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ کے عہدے شامل ہیں۔وکویان کے مطابق داؤد اولو نے ملک کے 64 شہروں میں اپنی جماعت کو منظم کر لیا ہے ۔ اسی طرح علی باباجان بھی سرگرم عمل ہیں اور وہ بھی انتخابات میں شرکت کے لیے مطلوبہ شرائط پوری کر لیں گے۔