اردو بین الاقوامی رابطہ کی زبان بن سکتی ہے : ڈاکٹر عقیل احمد

   

مانو میں قومی اردو کونسل کے تعاون سے دینی مدارس کے اساتذہ کے تربیتی پروگرام کا آغاز
حیدرآباد، 19؍ نومبر (پریس نوٹ) متحدہ عرب امارات کی عدالت میں کارروائی جو اب تک عربی میں چلائی جاتی تھی اب اسے اردو میں بھی چلانے کی اجازت مل چکی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُردو میں بین الاقوامی رابطہ کی زبان بننے کی صلاحیت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر عقیل احمد، ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) ، نئی دہلی نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اردو مرکز پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذۂ اردو ذریعہ تعلیم (سی پی ڈی یو ایم ٹی) آڈیٹوریم میں دینی مدارس کے اساتذہ کے اورینٹیشن پروگرام کے افتتاحی اجلاس سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ’’تعلیم ایک فن‘‘ کے موضوع پر 7 روزہ پروگرام این سی پی یو ایل کے اشتراک سے منعقد کیا جارہا ہے جو 25؍ نومبر تک جاری رہے گا۔ پروفیسر فاطمہ بیگم وائس چانسلر انچارج نے صدارت کی۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، رجسٹرار مہمانِ اعزازی تھے۔ ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ وزیر فروغ انسانی وسائل اردو کو ہندوستان کی بیٹی قرار دیتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ عرب شہریوں کو ہندوستان بلاکر انہیں اردو سکھائی جائے تاکہ وہ یہاں کی ثقافت سے واقفیت حاصل کریں اور ان سے بین الاقوامی رشتے استوار ہوں۔ انہوں نے کورس میں شرکت کر رہے اساتذہ سے کہا کہ وہ یہاں سے اردو کے سفیر بن کر جائیں اور اردو کی ترقی و ترویج میں جو بھی کر سکتے ہیں کریں۔ پروفیسر فاطمہ بیگم، نے صدارتی تقریر میں کہا کہ تدریس فن ہی نہیں سائنس بھی ہے۔ اس کا مقصد طلبہ کی شخصیت کا مکمل فروغ ہے، جس میں جسمانی، روحانی، سماجی، معاشرتی، معاشی سبھی طرح کی ترقی شامل ہے۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، رجسٹرار انچارج نے قرآن اور حدیث کے حوالوں سے تعلیم کی اہمیت و افادیت بتلائی۔ پروفیسر صدیقی محمد محمود، کنوینر پروگرام نے اغراض و مقاصد بیان کیے ۔ پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی، ڈائرکٹر سی پی ڈی یو ایم ٹی نے خیر مقدم کیا ۔