بزم علم و ادب سے ڈاکٹر محمد غوث کو تہنیت، پروفیسر مجید بیدار اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔ 19 ستمبر (راست) بزم علم و ادب کی جانب سے ڈائرکٹر ؍ سکریٹری تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی ڈاکٹر محمد غوث کا مسدوسی ہاوز مغلپورہ میں تہنیتی اجلاس و مشاعرہ منعقد ہوا۔ اجلاس میں پروفیسرس، اساتذہ، ادباء، شعراء اور صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پروفیسر مجید بیدار (سرپرست بزم) نے ڈاکٹر محمد غوث کی شالپوشی اور گلپوشی کی جبکہ ڈاکٹر م ق سلیم نے کتابوں کا تحفہ پیش کیا۔ ادبی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر مجید بیدار نے اردو زبان کی موجودہ حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنے کا مشورہ دیا۔ اس پر اردو کی انجمنوں کو غور و فکر کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر محمد غوث نے کہا کہ اردو زبان کی بقاء اور ترقی کیلئے مشترکہ طور پر غور و فکر کرتے ہوئے مثبت انداز کے تحت اقدامات کریں گے اس کیلئے حکومت سے نمائندگی صحیح انداز سے کریں تو اس کے بہتر فوائد اردو زبان کو حاصل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈیمی جہاں تک ممکن ہوسکے اردو زبان کو رائج کرنے کیلئے حکومت اور مختلف یونیورسٹیوں سے کامیاب نمائندگی کررہی ہے انہوں نے اس تہنیتی تقریب کے انعقاد پر بزم علم و ادب کے صدر ڈاکٹر نادر المسدوسی اور بزم کے عہدیداران و اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ صدر بزم ڈاکٹر نادر المسدوسی نے خیر مقدمی خطاب میں بزم کی ادبی سرگرمیوں کی تفصیلات پیش کیں۔ ڈاکٹر م ق سلیم، ڈاکٹر ناظم علی، حمید الظفر، ڈاکٹر محمد خواجہ مخدوم محی الدین، محمد آصف علی، اور حمید خان نے مہمانان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر محمد غوث کے ہاتھوں علمبردار اردو ایوارڈ و توصیف نامہ محمد رؤف الدین ایڈوکیٹ کو پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ استاد سخن یوسف روشؔ کو ’’شہریار سخن‘‘ کا خطاب اور افتخار سند عطا کی۔ پروگرام کا آغاز قاری انیس احمد انیس کی قرأت کلام پاک اور ظہور ظہیر آبادی کی نعت شریف سے ہوا۔ یوسف روش نے تہنیتی کلام پیش کیا۔ بعد ازاں شاعر صوفی سلطان شطاری کی صدارت میں مشاعرہ منعقد ہوا۔ پروفیسر مجید بیدار، سید یوسف روش، ڈاکٹر نادر المسدوسی، علی بابا درپن، قاری انیس احمد، افتخار عابد، ظہور ظہیر آبادی، جہانگیر قیاس، سراج الدین مدنی اور ثناء اللہ وصفی نے کلام پیش کرتے ہوئے دادو تحسین حاصل کی۔ محسن خان کے شکریہ پر تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔