اردو سے محبت کا دعوی کرنے والی حکومت کی ناانصافی کی ایک اور مثال!

   


نظام آباد جیسے اردو کے شہر میں جدید کلکٹریٹ عمارت میں اردو ندارد، صدر نشین اردو اکیڈیمی کا دورہ بے فیض
نظام آباد ۔ 30 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )اُردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان ہونے کے باوجود اُردو زبان کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی زندہ مثال اس وقت حاصل ہوئی کہ چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر رائو 5؍ ستمبر کو نظا م آباد میں کروڑو ں روپئے کی لاگت سے تعمیر کردہ جدید کلکٹریٹ کی عمارت کا افتتاح عمل میں لارہے ہیں اور اس کیلئے بڑے پیمانے پر تیاریاں کو انجام دیا جارہا ہے ۔ تیاریوں کا وزیر عمار ت و شوارع پرشانت ریڈی ، اُردو اکیڈیمی چیرمین ، ضلع کے اراکین اسمبلی نے نیو کلکٹریٹ کا دورہ کرتے ہوئے انتظامات کا جائزہ لیا ۔ لیکن کوئی بھی اُردو کو نظر انداز کئے جانے والے تختیوں اور باب الداخلہ پر نصب کردہ بورڈ کا بھی جائزہ نہیں لیا حالانکہ اُردو ریاست تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان ہے اور صدرنشین اُردو اکیڈیمی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے وزیر عمارت و شوارع کے ساتھ دورہ کیا لیکن انہوں نے بھی اس بات کی نشاندہی نہیں کی ۔ کروڑوں روپئے کی لاگت سے تعمیر کردہ جدید عمارت کے مختلف محکمہ جات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے عمارت کے روبرو تختی نصب کی گئی اور اس تختی میں تفصیلات تلگو اور انگریزی زبان میں لکھی گئی اور اُردو کو نظر انداز کردیا گیا ۔ نہ صرف تختیوں پر بلکہ ضلع کلکٹر کے چیمبر کے باہر جو تختی نصب کی گئی اس پر بھی کلکٹرآفس کی نشاندہی کرتے ہوئے بورڈ نصب کیا گیا اس پر بھی انگریزی اور تلگو میں تحریر کیا گیا نہ صرف کلکٹر بلکہ دیگر تمام محکمہ جات کے عہدیداروں کے چیمبروں کے باہر جو تختیاں نصب کی گئی یہ بھی انگریزی اور تلگو زبان میں تحریر کی ہوئی ہے ۔ اُردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان ہے اور حیدرآباد کے سب سے زیادہ نظام آباد میں اُردو کا بول چال ہے اور یہاں سے ہر روز اُردو اخبارات کے شام ناموں ہفتہ وار، اور حیدرآباد سے شائع ہونے والے تمام اخبارات کو پڑھا جاتا ہے اور یہاں کے مسلمان تلگو ، انگریزی سے زیادہ اُردو سے دلچسپی ہے جس کی وجہ سے آج بھی مسلم علاقوں میں اُردو میڈیم سرکاری مدارس کے علاوہ خانگی مدارس بھی طلباء کی قابل لحاظ تعداد ہے ۔ حکومت ضلع سے اُردو کو ختم کرنی وقفہ وقفہ سے کوشش کررہی ہے قبل از بھی پھولانگ اُردو میڈیم مدرسہ میں اُردو کی جگہ انگلش کے کلاسس شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کوشش کی گئی تو اس کی مخالفت کی گئی تو انگلش کے ساتھ ساتھ اُردو کے کلاسس کو بھی جاری رکھا گیا ۔ اُردو سے ہمدردی کے دعویٰ پیش کرنے والی حکومت نظام آباد میں اُردو کے ساتھ مکمل طور پر نا انصافی کرنے کی یہ زندہ مثال ہے ۔ جدید کلکٹر یٹ کے بورڈس کے علاوہ اُردو زبان میں کی جانے والی شکایتوں پر بھی کوئی عمل نہیں کیا جارہا ہے حالانکہ حکومت کے واضح طور پر احکامات ہونے کے باوجود بھی اُردو زبان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے حکومت کی جانب سے اُردو کے ساتھ کئے جانے والی دشمنی پر عوام کی جانب سے سخت ناراضگی ظاہر کی جارہی ہے اور اس بات کا مطالبہ کیا جارہا ہے کہ چیف منسٹر کے دورہ کیلئے بھی 5 دن باقی ہے اور اس سے قبل بھی تلگو ، انگریزی کی تختیاں ہٹاکر تینوں زبان کے ساتھ تختیاں نصب کرتے ہوئے اُردو کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔