استنبول ۔ فرانسی صحافی فگارو نے کہا ہیکہ صدر رجب طیب ایردوغان کے خیال میں لیبیا حکومت کے ساتھ اتحاد پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کرنے والے سیور سمجھوتے کو درہم برہم کر کے رکھ دے گا۔فاتح ایردوغان کے عنوان سے شائع کی گئی خبر میں ایردوغان کو عثمانی بادشاہ فاتح سلطان سے مشابہہ قرار دیا اورکہا گیا ہے کہ ایردوغان، فاتح سلطان کے دور کی طرح قدیم شاہی طاقت کے دائرے کو وسعت دینے اور ترکی کا فخر اسے واپس لوٹانے کے آرزو مند ہیں۔خبر میں صدر ایردوغان کے لیبیا کے وزیر اعظم فائز السراج کے ساتھ مل کر بحرِ روم کا نقشہ دوبارہ سے مرتب کرنے کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی اور دعوی کیا گیا ہے کہ مغربی اتحادیوں کے سراج کو تنہا چھوڑنے پر وہ ترکی کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔خبر میں کہا گیا ہے کہ رجب طیب ایردوغان کے خیال میں لیبیا حکومت کے ساتھ طے کیا گیا نیا فوجی و توانائی ا تحاد پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کرنے والے سیور سمجھوتے کو درہم برہم کر دے گا۔بحرِ روم کی سرحدیں بیسیوں سالوں سے ترکی اور یونان کے درمیان کشیدگی و تناو کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ صدر ایردوغان نے جنوبی قبرصی یونانی انتظامیہ اور مئیس جزیرے کے کھلے سمندر میں ڈرلنگ کاروائیوں کا حکم دے دیا ہے۔مشرقی بحرِ روم کی دولت کے لئے جدوجہد کا ابھی آغاز ہو رہا ہے۔