ابھیشک منو سنگھوی کے موقف سے عدالت کا اتفاق، سپریم کورٹ کے فیصلہ سے بی آر ایس کو دھکہ، منحرف ارکان کو راحت
حیدرآباد ۔12 ۔ مارچ (سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں آج ارکان اسمبلی کے انحراف کے مسئلہ پر مقدمہ میں بی آر ایس کو اس وقت دھکہ لگا جب عدالت نے اسپیکر کی جانب سے انحراف کی شکایتوں پر فیصلہ سنانے کے پس منظر میں مقدمہ کی یکسوئی کرتے ہوئے سماعت کو مکمل کردیا۔ جسٹس سنجے کرول اور جسٹس اے جارج مسیح پر مشتمل بنچ پر آج اس مقدمہ کی سماعت تھی۔ اسپیکر جی پرساد کمار کے وکیل ابھیشک منو سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق اسپیکر نے ارکان اسمبلی کے خلاف شکایتوں کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ سنادیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 10 ارکان اسمبلی نے پارٹی سے انحراف نہیں کیا اور اسپیکر نے شواہد کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنادیا ہے ۔ عدالت نے ابھیشک منو سنگھوی کے موقف سے اتفاق کیا اور اسپیکر کو ہدایت دی کہ آئندہ دو دنوں میں فیصلہ کی نقل شکایت کنندگان کے حوالے کی جائے۔ اس ہدایت کے بعد عدالت نے سماعت کی تکمیل کا اعلان کرکے مقدمہ کی یکسوئی کردی۔ منحرف ارکان کے خلاف شکایتوں کی یکسوئی میں اسپیکر کی جانب سے تاخیر کی شکایت کرتے ہوئے بی آر ایس قائدین کے ٹی راما راؤ ، کوشک ریڈی اور بی جے پی رکن اسمبلی مہیشور ریڈی سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے تھے ۔ سپریم کورٹ نے اسپیکر کو تین ماہ کی مہلت دی اور درخواستوں کی یکسوئی کی ہدایت دی تھی ۔ اسپیکر پرساد کمار نے دو مراحل میں 8 ارکان اسمبلی کی شکایتوں کی سماعت کرتے ہوئے کلین چٹ دے دی تھی جبکہ دو ارکان کڈیم سری ہری اور ڈی ناگیندر کے خلاف شکایتوں کو کل مسترد کردیا۔ ابھیشک منو سنگھوی نے تمام 10 ارکان کے بارے میں اسپیکر کے فیصلہ سے عدالت کو واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے فیصلہ کے بعد یہ مسئلہ ختم ہوچکا ہے۔ سپریم کورٹ نے سنگھوی کے موقف سے اتفاق کرکے کہا کہ اسپیکر کی جانب سے فیصلہ کے بعد اس مقدمہ کی سماعت کو جاری رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، لہذا اس مقدمہ کو ختم کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے بی آر ایس کو دھکہ لگا کیونکہ بی آر ایس نے اسپیکر کے فیصلہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس نے اسپیکر کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری شروع کردی ہے۔ دوسری طرف بی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے 10 ارکان اسمبلی کو سپریم کورٹ کے فیصلہ سے راحت ملی ہے ۔1