ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کو ووٹ دینے سے روکا جائے

   

مئیر حیدرآباد کے انتخاب پر ہائیکورٹ میں درخواست
حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں ایک درخواست داخل کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ایکٹ میں کی گئی ترمیم کو چیلنج کیا گیا جس کے تحت ارکان پارلیمنٹ، اسمبلی اور کونسل کو میئر کے انتخاب کیلئے رائے دہی میں حصہ لینے کا حق دیا گیا ہے۔ میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کے موقع پر بااعتبار عہدہ کونسل کے ارکان کی حیثیت سے ارکان پارلیمنٹ، اسمبلی اور کونسل رائے دہی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں حال ہی میں قانون میں ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے مطابق 150 رکنی بلدیہ میں پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ارکان کو رائے دہی کا حق رہے گا۔ انیل کمار نامی ایک سماجی جہد کار نے ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اس ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے اور ارکان پارلیمنٹ، اسمبلی و کونسل کو میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب میں رائے دہی کی اجازت نہ دی جائے۔ درخواست گذار نے کہا کہ اس طرح کی ترمیم جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ میئر حیدرآباد کا پہلا شہری ہوتا ہے اور اس کے انتخاب کیلئے کارپوریٹر کی فہرست میں عوامی نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 150 منتخبہ کارپوریٹرس کے علاوہ 55 عوامی نمائندے بااعتبار عہدہ ووٹ دینے کے مجاز ہیں اور یہ عوامی فیصلہ کے خلاف اپنی رائے دے سکتے ہیں۔