کانگریس کو نقصان پہنچانے کی کوشش، ملعون راجہ سنگھ کیخلاف امیدوار نہیں اور نہ ہی مہم کیلئے تیار،مسلمانوں میں بے چینی
حیدرآباد ۔16۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کے 119 اسمبلی حلقہ جات میں مجلس 9 اسمبلی حلقوں سے مقابلہ کر رہی ہے لیکن عوام بالخصوص مسلمانوں میں یہ سوال کیا جارہا ہے کہ پارلیمانی حلقہ حیدرآباد کے تحت آنے والے گوشہ محل حلقہ سے امیدوار کھڑا کیوں نہیں کیا گیا ۔ بی جے پی کو شکست دینے کے نام پر اترپردیش ، بہار اور دیگر ریاستوں میں اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کیا گیا لیکن خود اپنے شہر اور اپنے حلقہ میں بی جے پی کو شکست دینے کی فکر نہیں ہے۔ مجلسی قیادت تلنگانہ میں ’’ٹارگٹ کانگریس‘‘ ایکشن پلان کے تحت بی آر ایس کے حق میں مسلم رائے دہندوں کو ہموار کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی سے زیادہ کانگریس کی مخالفت کی جارہی ہے تاکہ بی آر ایس کو تیسری مرتبہ اقتدار کی راہ ہموار کی جائے۔ گوشہ محل میں بی جے پی کو شکست دینے میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی لیکن قیادت کو راجستھان کی فکر ہے جہاں چند نشستوں پر مجلس نے اپنے امیدوار کھڑا کئے ہیں۔ راجستھان میں مجلسی امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کیلئے اسد اویسی دو مرتبہ راجستھان کا دورہ کرچکے ہیں اور پہلی مرتبہ اکبر اویسی کو ریاست کے باہر پارٹی کی انتخابی مہم کے لئے روانہ کیا گیا ہے ۔ اکبر اویسی آج صبح راجستھان کے دارالحکومت جئے پور پہنچے جہاں شام میں مجلسی امیدواروں کے انتخابی جلسہ سے خطاب کیا۔ اکبر اویسی گزشتہ اسمبلی چناؤ میں مہاراشٹرا میں مجلسی امیدواروں کی مہم میں حصہ لے چکے ہیں لیکن اترپردیش اور بہار کی انتخابی مہم سے انہیں دور رکھا گیا تھا۔ راجستھان جہاں بی جے پی اور کانگریس میں کانٹے کی ٹکر ہے، مجلس نے نہ صرف چند نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے بلکہ دونوں برادران کے انتخابی مہم میں حصہ لینے سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ کانگریس کو نشانہ بنانے کیلئے دونوں بھائی جئے پور کا رخ کر رہے ہیں۔ راجستھان کی انتخابی مہم میں دو مرتبہ اسد اویسی نے اپنی تقاریر میں بی جے پی سے زیادہ کانگریس کو نشانہ بنایا ۔ اسی حکمت عملی کے تحت اکبر اویسی کو بھی میدان میں اتارا گیا ہے کہ تاکہ کانگریس کے امکانات کو متاثر کیا جائے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بی جے پی کو درپردہ اپنی تقاریر سے فائدہ پہنچانے کیلئے اکبر اویسی کو جئے پور روانہ کیا گیا۔ تقریر کے اعتبار سے بڑے بھائی سے زیادہ چھوٹے بھائی کو عوام پسند کرتے ہیں اور ان کی تقریر کے جذباتی انداز کا پہلی مرتبہ جئے پور کے رائے دہندوں نے مشاہدہ کیا۔ تلنگانہ میں 9 اسمبلی حلقہ جات کی مہم چھوڑ کر دونوں بھائیوں کا راجستھان کیلئے وقت نکالنا باعث حیرت ہے۔ حیدرآباد کے مسلمان یہ سوال کر رہے ہیں کہ راجستھان جاکر کانگریس کے خلاف تقاریر کرنے کا وقت ہے لیکن اپنے ہیڈکوارٹر دارالسلام اسمبلی حلقہ گوشہ محل میں دورہ کی فرصت نہیں۔ عوام کا احساس ہے کہ ملعون راجہ سنگھ کو شکست دینا ہر مسلمان کا دینی اور ایمانی فریضہ ہے کیونکہ اس نے گستاخی کی حدود کو پار کردیا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کے علاوہ اویسی خاندان کے بارے میں راجہ سنگھ نے جو رکیک حملے کئے وہ ناقابل بیان اور ناقابل تحریر ہیں۔ باوجود اسکے مجلسی قیادت نے راجہ سنگھ کے خلاف امیدوار کھڑا نہیں کیا اور نہ ہی اسے شکست دینے انتخابی مہم چلائی ۔ راجستھان میں جہاں کانگریس کی اشوک گہلوٹ حکومت کو بی جے پی سے سخت مقابلہ درپیش ہے ، ایسے میں مسلم ووٹرس کو کانگریس دور کرتے ہوئے بی جے پی کو برسر اقتدار لانے کی کوشش ہے۔ اویسی برادران کو راجستھان کے بجائے گوشہ محل پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ اگر راجستھان کے مجلسی امیدوار کامیاب بھی ہوتے ہیں تو اس کی اہمیت نہیں ہوگی بلکہ کامیابی سے زیادہ اہم گوشہ محل میں راجہ سنگھ کو ہرانا ہوگا۔ تلنگانہ کی انتخابی مہم میں مسلم رائے دہندوں کو ’’ماموں‘‘ کی تائید کا مشورہ دینے والے اویسی برادران کے نشانہ پر بی جے پی سے زیادہ کانگریس ہے۔ دوسری طرف اویسی برادران کے ماموں بھی بی جے پی سے زیادہ کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں کیونکہ اصل خطرہ کانگریس سے ہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ گوشہ محل کا فاصلہ کم تھا یا پھر راجستھان اویسی برادران کیلئے قریب ہے۔